حکمت اعراض
Urdu book, p. 80
By Maulana Wahiduddin Khan
حکمت اعراض قرآن میں اہل ایمان کو حکم دیا گیا ہے کہ اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی (بڑی) خبر لائے تو تم اچھی طرح اس کی بابت تحقیق کرو۔ ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ پر نادانی سے جاپڑو۔ پھر تم کو اپنے کیے پر پچھتانا پڑے (49:6)۔ آدمی کو جب کوئی ناموافق خبر ملتی ہے تو وہ فوراً پھر اٹھتا ہے اور فریق ثانی کے خلاف کاروائی کرنے کے لیے دوڑ پڑتا ہے۔ مگر ایسے موقع پر اس قسم کا ہنگامی رد عمل سراسر غیر اسلامی ہے۔ صحیح اسلامی طریقہ یہ ہے کہ خبر پر سنجیدگی کے ساتھ غور کیا جائے اور اس بارے میں جو کاروائی کی جائے سمجھ بوجھ کر کی جائے ، نہ کہ جذباتی ہیجان کے تحت۔ معاملہ جتنا زیادہ سنگین ہوا اتنا ہی غور و فکر کا محتاج ہوتا ہے۔ یہی وہ بات ہے جو حدیث میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے: التَّثَبُّتُ مِنَ اللَّهِ وَالْعَجَلَةُ مِنَ الشَّيْطَانِ ۔ (سنن الترمذی، حدیث نمبر (2012) یعنی، جلدی نہ کرنا اللہ کی طرف سے ہے اور جلدی کرنا شیطان کی طرف سے۔ راقم الحروف کا عمل خدا کے فضل سے اسی شرعی حکم پر ہے۔ چنانچہ جب میں نے سلمان رشدی کی کتاب کی بابت خبریں پڑھیں تو سب سے پہلے میں سلمان رشدی کی اصل انگریزی کتاب سٹیٹنگ ورسز (The Satanic Verses) حاصل کی۔ اور 547 صفحات کی اس کتاب کو پڑھا۔ اسی کے ساتھ میں نے اس معاملہ میں شرعی حکم کی دوبارہ تحقیق کی۔ اس سلسلہ میں دوسری فقہی کتابوں کے علاوہ علامہ ابن تیمیہ کی عربی کتاب 'الصارم المسلول علی شاتم الرسول' کو حاصل کر کے پڑھا جو 600 صفحات پر مشتمل ہے، اور اس موضوع پر اسلامی کتب خانہ کی واحد جامع اور مفصل کتاب سمجھی جاتی ہے۔ اس دو طرفہ تحقیق کے بعد میں اس موضوع پر لکھنے کا کام شروع کیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader