Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

حکمت اعراض

Urdu book, p. 81

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر مسلم رہنماؤں نے جس طرح عاجلانہ اور ناقص انداز میں اپنے بیانات دیے ۔ اس سے یہ قیاس ہوتا ہے کہ انھوں نے غالباً اصل کتاب کو پڑھے بغیر محض سنی سنائی باتوں پر اعتماد کر کے اس کے خلاف لفظی ہنگاموں کا جوش دکھانا شروع کر دیا۔ مجھے یہ بھی نظر نہیں آتا کہ ان میں سے کسی نے اس احساس ذمہ داری کا ثبوت دیا ہو کہ وہ اس معاملہ میں شرعی حکم کی از سر نو پوری تحقیق کرے، یا علامہ ابن تیمیہ کی مذکورہ کتاب کو مکمل طور پر پڑھے، اور اس کے بعد اس مسئلہ پر اپنی زبان کھولے۔ اس عجلت پسندی کی ایک مثال یہ ہے کہ ایران کے آیت اللہ خمینی نے جب سلمان رشدی کے قتل کا فرمان جاری کیا تو اس کے بعد مولانا ابوالحسن علی ندوی کا بیان اخبار قومی آواز (20 فروری 1989) میں چھپا۔ اس میں انھوں نے آیت اللہ خمینی کے فرمان کی تائید کرتے ہوئے اس کو حق بجانب قرار دیا۔ مگر کچھ دنوں بعد مولانا موصوف نے تعبیر حیات (10 مارچ 1989) میں دوسرا بیان شائع کیا۔ اس دوسرے بیان میں سابقہ بیان کی تعدیل کرتے ہوئے صرف یہ خبر دی گئی تھی کہ آیت اللہ خمینی کے فرمان سے مسلمانوں کو خوشی ہوئی ۔ پہلے بیان میں آیت اللہ خمینی کے فتوے کی ذاتی تصدیق تھی، دوسرے بیان میں صرف مسلمانوں کے ردّعمل کی ایک اطلاع۔ اسی طرح مولانا ابو اللیث اصلاحی کا ایک بیان نئی دنیا (9-3 مارچ 1989) میں چھپا۔ اس میں انھوں نے شیطانی آیات کے مصنف سلمان رشدی کے بارے میں آیت اللہ خمینی کے قتل کے فرمان کو قابل تحسین قرار دیا۔ مگر اس کے بعد انھوں نے اخبار دعوت (28 مارچ 1989) میں دوسرا مفصل بیان شائع کیا تو اس میں ان کا انداز واضح طور پر بدلا ہوا تھا۔ پہلا بیان اگر آیت اللہ خمینی کی لائنوں پر تھا تو دوسرا بیان اس لائن پر جوریاض میں 46 مسلم ملکوں کی کانفرنس میں متفقہ طور پر اختیار کی گئی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page