پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا
Urdu book, p. 87
By Maulana Wahiduddin Khan
کفر کی حیثیت رکھتی ہے (ٹائمز آف انڈیا، 28 فروری 1989 )۔ یہی وجہ ہے کہ جس طرح مسلم دنیا سلمان رشدی کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے، اسی طرح مغربی دنیا سلمان رشدی کے معاملہ کو اپنا معاملہ بنا کر اس کی حمایت پر کمر بستہ ہے۔ مغربی دنیا کی طرف سے سلمان رشدی کی حمایت کا سبب ”اسلامی دشمنی“ نہیں ہے، جیسا کہ مسلم رہنما سطحی طور پر اس کے بارے میں کہہ رہے ہیں۔ بلکہ یہ اپنے ”مذہب“ کا دفاع ہے، ٹھیک اسی طرح جس طرح مسلمان اپنے مذہب کے دفاع کے لیے متحرک ہیں۔ اس طرح یہ لڑائی، مسلمان بمقابلہ رشدی نہیں رہی، بلکہ مسلمان بمقابلہ مغرب بن گئی ہے۔ اس کے نتیجہ میں پوری مغربی دنیا از سر نو اسلام کے خلاف نفرت اور حقارت سے بھر گئی ہے۔ صلیبی جنگوں کے بعد پورے یورپ میں اسلام کے خلاف شدید نفرت کا طوفان آیا تھا جو صدیوں تک پوری طاقت سے جاری رہا۔ تاہم موجودہ زمانہ کے سائنسی انقلاب نے اس مذہبی نفرت کو بڑی حد تک ختم کر دیا تھا۔ اور دوبارہ وہ معتدل ماحول پیدا ہو گیا تھا جس میں اہل یورپ کو اسلام کی دعوت دی جائے اور وہ سنجیدگی کے ساتھ اس پر غور کریں۔ یہ حالات اس درجہ موافق تھے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد، یورپ اور امریکا میں اسلامی دعوت کا کام اپنے آپ ہونے لگا۔ اس عمل کو 1979 میں پہلا جھٹکا لگا جب ایران میں نام نہاد اسلامی انقلاب آیا۔ اس کے بعد انقلابیوں کے ہاتھوں پیش آنے والے وحشیانہ واقعات نے ساری دنیا میں لوگوں کو اسلام سے بیزار کر دیا۔ ایران کا انقلاب صرف اینٹی شاہ انقلاب تھا، نہ کہ کوئی اسلامی انقلاب۔ اس کے رہنما اس کو اینٹی شاہ انقلاب بتاتے تو اسلام بدنامی سے بچ جاتا۔ مگر خلاف واقعہ طور پر اسلامی انقلاب اس کو اسلامی انقلاب کہنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام بدنام ہو کر رہ گیا۔ اس کے بعد 1989 میں مسلمانوں نے سلمان رشدی کے خلاف ( عملاً پورے مغرب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader