پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا
Urdu book, p. 88
By Maulana Wahiduddin Khan
کے خلاف) جو نا قابل فہم حد تک غیر عاقلانہ تحریک چلائی، اس نے سارے مغرب میں اسلام کے خلاف سوئی ہوئی نفرتوں کو دوبارہ نئے عنوان سے جگا دیا۔ مسلمان سلمان رشدی کو قتل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے البتہ انھوں نے اپنی بے معنی سرکشی کے ذریعہ اسلام کے دعوتی امکانات کو یقیناً قتل کر دیا۔ موجودہ زمانہ میں مختلف اسباب کے تحت اسلام کے حق میں جو دعوتی فضا بنی، اس کو بنانے میں مسلم رہنماؤں کا کوئی حصہ نہ تھا۔ یہ تمام تر اللہ تعالیٰ کا معاملہ تھا جو براہِ راست قانونِ قدرت کے تحت پیش آیا۔ مسلم رہنماؤں کی یہ غلطی (صحیح تر لفظ میں سرکشی) بلا شبہ آخری حد تک ناقابل معافی ہے۔ یہ جرم یقیناً سلمان رشدی کے جرم سے بھی زیادہ سنگین ہے۔ سلمان رشدی کو مجرم کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش میں مسلم رہنماؤں نے خود اپنے آپ کو شدید تر قسم کے مجرمانہ کٹہرے میں کھڑا کر لیا۔ ٹائمس آف انڈیا (9 مارچ 1989، سیکشن 2) کے صفحہ اول پر پہلی خبر کی سرخی یہ ہے رشدی کی کتاب اسلام اور مغرب کے ٹکراؤ کو دوبارہ جگاتی ہے: 'Verses' rekindle Islam-West conflict رائٹر کی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسلام اور مغرب کے درمیان 13 صدیوں سے جو سیاسی اور فوجی رقابت قائم تھی، جس نے دونوں کے درمیان تعصب اور غلط فہمی کی تلخیاں پیدا کر رکھی تھیں، وہ سلمان رشدی کے ناول ”شیطانی آیات“ کے ذریعہ از سر نو زندہ ہو گئی ہیں۔ 1979 میں ایران کے نام نہاد انقلاب کے ذریعہ اسلام اور مغرب کے درمیان تعصب کی جو فضا پیدا ہوئی تھی اس کے بعد یہ دوسرا شدید ترین واقعہ ہے جو رشدی کی کتاب کے ذریعہ سامنے آیا ہے۔ اسلام اور مغرب کے درمیان یہ کشمکش اسپین اور فرانس میں مسلمانوں کے حملہ سے شروع ہوئی ۔ اس کے بعد قرونِ وسطی میں صلیبی جنگوں اور اس کے بعد 19 ویں صدی میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader