Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا

Urdu book, p. 89

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلم دنیا پر یورپ کی فتح کی بنا پر دونوں ایک دوسرے کو دشمن کی نظر سے دیکھتے رہے (صفحہ 1)۔ اس طرح کی مختلف تفصیلات دیتے ہوئے رپورٹر نے بتایا کہ کس طرح اسلام اور مغرب کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف نفرت اور حقارت کے جذبات چھپے ہوئے ہیں۔ یہ رپورٹ بطور واقعہ صحیح ہے۔ اس نفرت نے ایک ہزار سال سے مغرب کے درمیان اسلام کی وسیع اشاعت کا دروازہ بند کر رکھا ہے۔ جدید سائنسی انقلاب نے مذہب کو غیر مؤثر بنا کر اس میں بہت زیادہ کمی کی ہے تاہم سطح کے نیچے اب بھی یہ منفی جذبات اہل مغرب کے درمیان موجود ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ایسی حالت میں ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ قرآن و سنت کی رہنمائی میں ہمارے کرنے کا کام یہ ہے کہ یک طرفہ ”صبر“ کے ذریعہ ہم حالات کو خوشگوار بنائیں تا کہ وہ معتدل فضا قائم ہو جس میں مؤثر طور پر اہل مغرب کے درمیان اسلام کی دعوت و اشاعت کا کام کیا جا سکے۔ دعوت کے حق میں موافق فضا بنانے کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اس کی خاطر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلسل ہر قسم کی توہین اور اذیت کو برداشت کیا۔ حتیٰ کہ دعوتی امکان کو کھولنے کے لیے معاہدہ حدیبیہ کے موقع پر آپ نے لفظ ”رسول اللہ“ کو خود مٹا دیا، حالانکہ یہی آپ کی اصل حیثیت تھی اور اسی کے اعلان کے لیے آپ دنیا میں تشریف لائے۔ اس سنت رسول کے مطابق مسلمانوں کو یہ کرنا تھا کہ سلمان رشدی کی کتاب کے بارے میں مکمل طور پر نظر انداز کرنے کی پالیسی اختیار کرتے۔ اس طرح حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کے مطابق، رشدی کی کتاب اپنی موت ہی مر جاتی۔ دوسری طرف اس طرزِ عمل کا یہ فائدہ ہوتا کہ مختلف اسباب کے تحت مغرب میں اسلامی دعوت کے جوامکانات کھل رہے ہیں، ان کا عمل بدستور جاری رہتا۔ یہاں تک کہ وہ وقت آجاتا کہ مغربی دنیا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page