دور آزادی
Urdu book, p. 94
By Maulana Wahiduddin Khan
شیطان۔ اور باعتبار نتیجہ دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ آزادی کا مذکورہ مطلق تصور بظاہر اسلام کے خلاف ہے۔ لیکن اگر اس کو گہرائی کے ساتھ دیکھیے تو عین اسلام کے حق میں نظر آئے گا، کیونکہ آزادی کے اس جدید انقلاب نے تاریخ میں پہلی بار عالمی سطح پر ایسی صورت حال پیدا کی ہے کہ دعوت کے دروازے بے اندازہ حد تک کھل گئے ہیں۔ آزادی جتنی زیادہ عام ہوگی اتناہی زیادہ وہ مسلمانوں کے لیے دعوت کے زیادہ وسیع مواقع کھولنے کا سبب بنے گی۔ اور دعوت کے مواقع کھلنا، قرآن کے الفاظ میں، فتح مبین کا دروازہ کھلنا ہے۔ قدیم زمانہ میں اظہارِ خیال کی آزادی کا حق تسلیم نہیں کیا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم زمانہ میں دینِ حق کی آزادانہ تبلیغ ممکن نہیں ہوتی تھی، توحید کا نام لیتے ہی داعیانِ توحید کو قتل کر دیا جاتا تھا۔ یہ صرف موجودہ زمانہ کی بات ہے کہ توحید کی طرف لوگوں کو بلانے میں کوئی سیاسی رکاوٹ حائل نہیں رہی۔ یہ جدید انقلاب تمام تر اسی تصور آزادی کی دین ہے جس کا ذکر ایڈورڈ مائُمیر نے اپنے مضمون میں کیا ہے۔ اس آزادی نے تاریخ میں پہلی بار ہر ایک کے لیے اپنے فکر و خیال کے اظہار کے تمام دروازے کھول دیے ہیں۔ آزادی فکر آج ایسا مسلّمہ حق بن چکا ہے جس سے انکار نہ کیا جاسکے۔ مگر یہ آزادی لازمی طور پر سب کے لیے ہوگی، نہ کہ صرف مسلمانوں کے لیے۔ اپنے لیے آزادی کا مکمل حق پانے کے لیے دوسروں کو بھی آزادی کا مکمل حق دینا پڑتا ہے، یہ دنیا دوطرفہ ٹریفک کی جگہ ہے ۔ یہاں یک طرفہ ٹریفک کا طریقہ ہرگز ممکن نہیں، اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ سڑک کے اوپر اپنی گاڑی تیز دوڑائیں تو آپ کو دوسروں کے لیے بھی اس کا موقع دینا ہوگا۔ دوسروں کو موقع دیے بغیر اپنے لیے موقع پانا ہرگز ممکن نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader