دور آزادی
Urdu book, p. 95
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ صحیح ہے کہ ”ٹریفک“ کے لیے کچھ اخلاقی ضابطہ ہونا چاہیے۔ مگر ضابطہ صرف مشترک امور میں قابلِ عمل ہے، وہ انفرادی اور گروہی امور میں قابلِ عمل نہیں۔ یعنی وہ اصول جس کا تعلق تمام لوگوں سے ہو، جو ہر ایک کی عمومی ضرورت ہو، اس کی بندش تو قائم کی جاسکتی ہے۔ مگر کسی شخص یا گروہی دلچسپی کی بات پر عمومی ضابطہ بندی ممکن نہیں۔ اور اگر جوشِ اصلاح میں کوئی حکمران ایسی ضابطہ بندی نافذ کرے جو ایک کے موافق اور دوسرے کے خلاف ہو تو وہ عملی طور پر کبھی نافذ نہیں ہو سکے گی۔ وہ صرف ایک کاغذی کاروائی بن کر رہ جائے گی۔ اس کی ایک مثال خود سلمان رشدی کی کتاب ہے۔ اس نزاعی کتاب پر ہندوستان اور پاکستان میں پابندی لگائی گئی۔ مگر دونوں ملکوں میں اس کے غیر قانونی ایڈیشن فروخت ہو رہے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے یہ کتاب کھلے بازار میں ملتی، اب وہ بلیک مارکیٹ کے ذریعہ لوگوں تک پہنچ رہی ہے۔ قانونی پابندی کے باوجود کتاب پر حقیقی پابندی لگانا ممکن نہ ہوسکا۔ جمہوری ملکوں میں آزادانہ تجارت کا حق ہے۔ اس آزادی نے اگر کپڑے اور جوتے اور غلہ کے تاجروں کو موقع دیا ہے کہ وہ تجارتی ادارے کھول کر بڑے بڑے نفع کمائیں تو اسی کے ساتھ شراب جیسی ناجائز چیزوں کی دکانیں بھی کھلی ہوئی ہیں۔ اس کے باوجود ڈاکٹروں مسلمان آزادانہ تجارت کے اس ماحول سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ وہ تجارت کے ذریعہ دولت کما کر اپنے خاندان کے لیے اور ملّی اداروں کے لیے نفع پہنچانے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ کسی مسلمان نے ایسا نہیں کیا کہ وہ اس آزادی سے صرف اس لیے فائدہ نہ اٹھائے کہ اس کی وجہ سے شراب فروشوں کو بھی آزادانہ تجارت کا موقع حاصل ہو گیا ہے۔ ذاتی انٹرسٹ کے معاملہ میں تمام مسلمان اسی حکمت کو عملاً اختیار کیے ہوئے ہیں، مگر جب ملّت کا سوال سامنے آئے تو فوراً یہ جھنڈ والے کر کھڑے ہو جاتے ہیں کہ ”پہلے شراب کی دکان بند کرو، اس کے بعد ہم بازار میں ”کپڑے کی دکان“ کھولیں گے۔ دوسروں پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader