Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

دور آزادی

Urdu book, p. 96

By Maulana Wahiduddin Khan

پابندی قائم کرنے سے پہلے ہم آزادی سے فائدہ اٹھانے والے نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معاہدہ حدیبیہ کے موقع پر فریقِ مخالف کو اس کا پابند کرنا چاہتے تھے کہ وہ آپ پر یا آپ کے حلیف قبائل پر حملہ نہ کریں۔ اس کی خاطر آپ کو خود اپنے آپ کو بھی اس کا پابند کرنا پڑا کہ آپ فریقِ مخالف کے اوپر یا اس کے حلیف قبائل کے اوپر حملہ نہیں کریں گے۔ حالانکہ خود خدا کی گواہی کے مطابق، یہ یقینی تھا کہ آپ پوری طرح انصاف پر ہیں اور فریقِ ثانی پوری طرح ناانصافی پر۔ تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوسروں کی طرف سے یہ حق اس وقت ملا جب کہ آپ دوسروں کو بھی اپنی طرف سے یہ حق دینے پر راضی ہو گئے۔ یہ صحیح ہے کہ موجودہ عمومی آزادی کے نتیجہ میں کچھ بے اعتدالیاں پیدا ہوں گی۔ مثلاً کچھ لوگ اسلام پر بے جا تنقید کریں گے۔ یا ایسی کتابیں چھاپیں گے جو مسلمانوں کو اسلام کی اہانت معلوم ہوں۔ مگر یہاں مسلمانوں کو جس چیز پر اعتماد کرنا چاہیے وہ اسلام کی ناقابلِ شکست صداقت ہے، نہ کہ قانون کی پشتہ بندی۔ کیونکہ جس شخص کے پاس اپنے بچاؤ کے لیے پستول اور بندوق اور رائفل ہو وہ کبھی غلیل حاصل کرنے کے لیے نہیں دوڑتا۔ جب اسلام ایک کامل صداقت ہے تو ہمیں اس قسم کی باتوں سے ڈرنے کی کیا ضرورت۔ اگر مسلمانوں کو اس حقیقت کا صحیح احساس ہو تو وہ مخالفین کے الفاظ کو مزید طاقتور الفاظ سے رد کریں گے۔ وہ ان کی تحقیر و اہانت کو دلائل کے سیلاب سے ہباءً منثوراً بنا دیں گے۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے پاس اپنے مذہب کے حق میں فخر و ناز کا ذخیرہ تو ضرورت سے زیادہ ہے، مگر دلائل و براہین کا ذخیرہ ضرورت سے بھی کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اہانت کا کوئی لفظ دیکھ کر بھڑک اٹھتے ہیں۔ اس معاملہ میں مسلمانوں کو اپنی کمی کو دور کرنا، نہ کہ دوسروں کے خلاف مشتعل ہو کر اسلام کی جگ ہنسائی کا سامان کریں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page