Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

دور آزادی

Urdu book, p. 97

By Maulana Wahiduddin Khan

رشدی یا اس جیسے دوسرے افراد کے خلاف مسلمان جوشور وغل کرتے ہیں ، اس کو وہ بطورِ خود ” ناموسِ رسول کی حفاظت “ کا نام دیتے ہیں۔ اگر ان ہنگاموں کا مقصد واقعۃً ” ناموسِ رسول کی حفاظت “ ہو تو ان کی یہ سرگرمیاں سراسر بے فائدہ ہیں۔ کیونکہ وہ ناموسِ رسول کی مفروضہ حفاظت میں سراسر ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ سوامی شردھا نند ہندوستان میں شدھی تحریک کے بانی تھے۔ انھوں نے ایک کتاب لکھی جس کا نام ” رنگیلا رسول “ تھا۔ برصغیر ہند کے مسلمانوں نے اس کتاب کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔ کیونکہ ان کے نزدیک یہ کتاب پیغمبرِ اسلام کی ” شان اور عظمت کے خلاف نہایت توہین آمیز تھی “۔ آخر کار یہ واقعہ پیش آیا کہ دسمبر 1926 کی آخری تاریخوں میں ایک مسلم نوجوان نے سوامی شردھا نند کو قتل کر دیا۔ اس نوجوان کا نام عبدالرشید تھا۔ اس کی بیوہ ماں نے اپنے اکلوتے بیٹے کو خوشی خوشی اس کی اجازت دے دی تھی کہ وہ ناموسِ رسول کی حفاظت کے لیے قربان ہو جائے۔ لیکن اگر ناموسِ رسول کی حفاظت کا طریقہ یہی ہو تو یقیناً یہ مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ کیونکہ اس قتل کے بعد شردھا نند نے اس ملک کی اکثریت کے درمیان قومی ہیرو کی حیثیت اختیار کر لی۔ ملک کی تاریخ میں ان کو ” شہید “ کا مقام دیا گیا۔ 1947 میں ہندوستان آزاد ہوا تو راجدھانی دہلی کے ممتاز مقام ( چاندنی چوک ) پر ان کا بلند و بالا مجسمہ عین شاہرہ پر نصب کر دیا گیا، وغیرہ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے کسی عمل کو ناموسِ رسول کے نام پر بے فائدہ جان دے دینا تو کہہ سکتے ہیں مگر اس کو ناموسِ رسول کی حفاظت کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ یہ قربانی نہیں ہے بلکہ نادانی ہے، جس کا تعلق نہ عقل سے ہے اور نہ اسلام سے۔ مسلمان دوسروں کی جن باتوں پر بھڑکتے ہیں ، خود بھی وہ دوسروں کے لیے اسی قسم کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page