دور آزادی
Urdu book, p. 98
By Maulana Wahiduddin Khan
الفاظ بولتے ہیں۔ مگر موجودہ مسلمانوں کی خوش قسمتی یہ ہے کہ دوسرے لوگ اپنے مذہب کے بارے میں اتنے حساس نہیں ہیں۔ جتنا کہ مسلمان، اپنی شکست خوردگی کی بنا پر حساس ہو گئے ہیں۔ اس وجہ سے کوئی مسلمان جب دوسروں کے مذہب کے بارے میں سخت الفاظ بولتا ہے تو اس کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اس کے برعکس جب دوسرے فرقوں کا کوئی شخص اسلام کے خلاف سخت الفاظ استعمال کرتا ہے تو مسلمان فوراً مشتعل ہو جاتے ہیں۔ اس طرح مسلمان غیر شعوری طور پر یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ ہم دوسروں کے خلاف کچھ نہیں کہتے، البتہ دوسرے لوگ ہمارے خلاف بولتے رہتے ہیں، حالانکہ یہ خوش فہمی واقع کے مطابق نہیں۔ ایک مثال لیجیے۔ جنوبی افریقہ کے احمد دیدات صاحب دوسرے مذاہب کے خلاف مظاہرہ کرتے ہیں اور لٹریچر چھاپتے ہیں۔ وہ جس قسم کی زبان بولتے ہیں، اس کا نمونہ یہ ہے کہ ان کے انگریزی بلیٹن البرہان (دسمبر (1988) میں ان کا انٹرویو چھاپتے ہیں۔ اس میں انھوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مختلف مذاہب کا ذکر کیا اور کہا کہ ان سب پر بلڈوزر چلا دو: "Bulldoze them all." (p.3). احمد دیدات صاحب یا دوسرے مقرروں کے اس قسم کے الفاظ مسلمانوں کو بہت اچھے لگتے ہیں۔ وہ ان پر تالیاں بجاتے ہیں۔ لیکن اگر یہی لفظ دوسرا شخص بولے تو وہ غصہ ہو جائیں گے ۔ مثلاً ہندوستان میں بال ٹھا کرے اگر یہ کہے کہ اسلام اور مسلمانوں کو بلڈوزر کر دو تو تمام مسلمان مشتعل ہو کر ہنگامہ کھڑا کر دیں گے۔ اس قسم کا دوطرفہ معیار موجودہ امتحان کی دنیا میں ہرگز چلنے والا نہیں۔ مسلمانوں کو یہ جاننا چاہیے کہ جو آزادی انھوں نے خود اپنے لیے لے رکھی ہے، وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader