Urdu book · صراطِ مستقیم

دینی تعلیم

Urdu book, p. 109

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا کا پڑوسی خدا کو پانے والا دنیا کی زندگی ہی میں خدا کا پڑوسی بن جاتا ہے۔ اس کی روح خدا کے نور میں نہا اٹھتی ہے۔ پھولوں کی صحبت آدمی کو لطیف کیفیات سے بھر دیتی ہے پھر کیسے ممکن ہے کہ آدمی اپنے رب کو پائے اور پھر بھی اس کے اندر ربانی کیفیات پیدا نہ ہوں۔ بہت سے لوگ اپنے کو خدا کے قریب سمجھتے ہیں حالانکہ وہ انتہائی حد تک خدا سے دور ہوتے ہیں۔ وہ خدا کی باتیں کرتے ہیں مگر ان کا پورا وجود گواہی دے رہا ہوتا ہے کہ ابھی انھوں نے خدا کو پہچانا ہی نہیں۔ وہ خدا کا نام لیتے ہیں مگر ان کے منھ میں خدائی مٹھاس کی شکر نہیں گھلتی۔ وہ خدا کو پانے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر خدا کے چمنستان کی کوئی خوشبو ان کے مشام کو معطر نہیں کرتی۔ وہ خدا کے نام پر دھوم مچاتے ہیں مگر خدا کے نورانی سمندر میں نہانے کا کوئی نشان ان کے جسم پر ظاہر نہیں ہوتا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ خدا کی جنتیں ان کے لئے مخصوص ہو چکی ہیں مگر جنت کے باغ کا کوئی جھونکا ان کے وجود کو نہیں چھوتا۔ کیسا عجیب ہوگا وہ خدا جس کی یاد دل و دماغ کی دنیا میں کوئی اہتزاز پیدا نہ کرے۔ کیسی عجیب ہوگی وہ جنت جس میں داخلہ کا ٹکٹ آدمی اپنی جیبوں میں لئے پھرتا ہو مگر جنت کا باسی ہونے کی کوئی جھلک اس کے رفتار و گفتار سے نمایاں نہ ہو۔ کیسے عجیب ہوں گے وہ آخرت والے جن کے لئے آخرت کی ابدی وراثت لکھی جا چکی ہو مگر ان کی ساری دلچسپیاں بدستور اسی عارضی دنیا کی چیزوں میں اٹکی ہوئی ہوں۔ آہ وہ لوگ جو خدا کو پانے کا دعویٰ کرتے ہیں، حالانکہ ابھی تک انھوں نے خدا کو پایا ہی نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page