Urdu book · سوشلزم اور اسلام

تجرباتی تردید

Urdu book, p. 100

By Maulana Wahiduddin Khan

نہیں کیا تھا کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کر لیں بلکہ اس کا محرک دراصل یہ واقعہ تھا کہ سٹالن کی حکومت سے روس کی پبلک بے حد عاجز آ چکی تھی اور آہنی گھیرے کے باوجود دنیا کے علم میں یہ بات آ چکی تھی کہ روس کے اندر آزادی کا خاتمہ کر دیا گیا ہے ۔ اس لئے سٹالن کے وارثوں کے لئے ضروری تھا کہ وہ اپنی رعایا کو اور ساری دنیا کو یہ باور کرائیں کہ ان کی حکومت سٹالن کی حکومت سے مختلف ہوگی ۔ اس کی دو صورتیں تھیں ، ایک تو یہ کہ وہ مارکسزم سے تو بہ کرلیتے جو دراصل ان حالات کا واقعی سبب تھا اور اجتماعی ملکیت کا نظام ختم کر کے اپنے یہاں آزاد معیشت کا نظام قائم کرتے ۔ مگر وہ ایسا کرنا نہیں چاہتے تھے ۔ اس لئے انھوں نے دوسرا طریقہ یہ اختیار کیا کہ ساری ذمہ داری ایک شخص کے اوپر ڈال دی ـــ انھوں نے یہ ماننے سے انکار کیا کہ جو کچھ ہوا وہ اس طرز زندگی کا نتیجہ تھا جو روس میں عملاً رائج ہے کیونکہ اس طرح خود ان کی اپنی غلطی بھی ثابت ہورہی تھی ۔ انھوں نے کہا کہ یہ سٹالن کا ذاتی کردار تھا کہ اختیارات پا کر وہ روس کا ڈکٹیٹر بن گیا ۔ چنانچہ انھوں نے اجتماعی قیادت (Collective leadership) کا نعرہ لگایا ۔ انھوں نے کہا کہ اب ہمارے ملک میں ایک شخص کی ڈکٹیٹر شپ نہیں ہوگی بلکہ کئی لوگ مل جل کر حکومت کریں گے ۔ اس طرح انھوں نے روس کے عوام اور روس کے محکوم ممالک کے باشندوں کو یہ یقین دلانا چاہا کہ جن نئے متولیوں کے ہاتھ میں اب ان کی قسمت آئی ہے وہ پچھلی سخت گیر حکومت سے بالکل مختلف ثابت ہوں گے ۔ اب آمریت کے بجائے ان کے اوپر جمہوریت کی حکمرانی ہوگی شخصی قیادت کے بجائے اجتماعی قیادت ہوگی ۔ اس طرح اپنی سلطنت سے باہر دنیا کی رائے عامہ کو انھوں نے یہ یقین دلانا چاہا کہ سٹالن کے مرنے کے بعد اس کے ظلم و جبر کا خاتمہ ہو چکا ہے ۔ مگر حالات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ " اجتماعی قیادت " کا نعرہ محض فریب تھا ۔ سٹالن نے اقتدار پانے کے بعد سازش اور قتل کے ذریعہ تمام ایسے لیڈروں کو میدان سے ہٹا دیا تھا جو کبھی اس کے حریف بن سکتے تھے ۔ سٹالن کے بعد کریملن (Kremlin) کے اندر پھر وہی عمل شروع ہو گیا ۔ اس بار اس عمل کا ہیرو روسی کمیونسٹ پارٹی کا سکریٹری اول خروشیف تھا ۔ پہلے مالنکوف کے ذریعہ بیریا کے گروہ کو ختم کیا گیا ۔ اس کے بعد روسی افواج کے مالک مارشل زوکوف کو ساتھ لے کر روس کے اعلیٰ ترین لیڈروں مالنکوف ، مالوتوف ، شپیلوف اور کگانو وچ کو نکال باہر کیا گیا ۔ اور جب یہ کام پوری طرح انجام پا چکا تو خود زوکوف کو بھی ایک سازش کے بعد ٹھیک اس وقت برطرف کر دیا گیا جب کہ وہ ایک طویل سرکاری دورہ پر یوگوسلاویہ گئے ہوئے تھے ۔ ۲۷ اکتوبر ۱۹۵۷ء کو مارشل زوکوف کی دُودھ سے واپسی اور ان کی علیحدگی کی خبر ماسکو ریڈیو سے ایک ساتھ نشر کی گئی ۔ اس طرح چند سال بھی نہیں گزرے تھے کہ " اجتماعی قیادت " کا نعرہ بکھر گیا اور بالآخر خروشیف اسی طرح روس کا وحدہ لاشریک مالک بن گیا جس طرح اس سے پہلے سٹالن رہ چکا ہے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page