تجرباتی تردید
Urdu book, p. 101
By Maulana Wahiduddin Khan
خروشیچوف ۱۹۵۸ میں روس کا وزیر اعظم بنا ۔ اس نے مذکورہ بیسویں کانگریس میں ظلم اور آمریت کے جو الزام اپنے پیش رو اسٹالن پر لگائے تھے ، ٹھیک وہی الزام بعد کو خود اس پر لگائے گئے ۔ چنانچہ اس نے کمیونسٹ پارٹی کے دباؤ کے تحت ۱۹۶۴ میں وزیر اعظم کے عہدہ سے استعفا دیدیا ۔ اس کے بعد وہ خانہ قید زندگی گزارتا رہا ۔ یہاں تک کہ ۱۹۷۱ کی ایک شام کو اپنے مکان میں مرگیا ۔ روس کے وہ سائنسی مظاہرے جو زوکوف کی برطرفی کے فوراً بعد کئے گئے دراصل انھیں تاریک حالات پر پردہ ڈالنے کی کوششیں ہیں ۔ روس کے ان حالات نے پھر دنیا کو یہ سمجھنے پر مجبور کر دیا تھا کہ جمہوریت اور اجتماعی قیادت کا نعرہ محض جھوٹا نعرہ ہے ، اسٹالن اگر چہ مرگيا ، لیکن روس میں جب تک مارکسی نظریہ حیات کی حکمرانی ہے ، وہاں اسٹالن ازم زندہ رہے گا ۔ ان حالات میں روسی لیڈروں نے یہ بہترین موقع سمجھا کہ مصنوعی چاند اُڑا کر دنیا کی نگاہ حقیقی مسئلہ سے ہٹا کر اس کی طرف کر دی جائے ۔ ایک اخبار نے روس کے اس سائنسی مظاہرہ پر بہت دلچسپ کارٹون شائع کیا تھا۔ اس نے دکھایا کہ خروشیچیف فٹ بال کی مانند ایک گولے کو زور سے ٹک لگائی اور وہ فضا میں پہنچ کر ناچنے لگا ۔ یہ تصویر بناکر اس نے فٹ بال پر لکھہ دیا " مارشل زدکوف " کمیونزم کی ناگزیر بیت اکتوبر انقلاب کے بعد روس میں جو حالات پیش آئے ۔ بعض مخلص اشتراکی اس کو " انقلاب سے غداری " کا نام دیتے ہیں ۔ ان کے نزدیک انقلاب کی ناکامی اس کے اصولوں کی ناکامی نہیں تھی ، بلکہ یہ صرف اس بات کا نتیجہ تھی کہ بدقسمتی سے وہاں اسٹالن جیسا ایک شخص بر سر اقتدار آگیا ۔ مشہور سوشلسٹ مسٹر جے پرکاش نارائن نے کہا ہے : " جدلیاتی مادیت انسانیت کی تکمیل کا ایک عقیدہ ہے جسے روس میں ایک ڈکٹیٹرانہ راجیعہ کا مذہب بنا کر رکھ دیا گیا ہے ۔ " ۱ مگر یہ تاویل اپنی تردید آپ کر رہی ہے ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ خود اشتراکی نظام کی یکموری تسلیم کر رہے ہیں کہ اس میں حکومت کے ہاتھ میں بے پناہ طاقت آ جاتی ہے ۔ یہ تاویل دوسرے لفظوں میں خود اس امکان کو تسلیم کر رہی ہے کہ جدلیاتی نظام ایک ایسا نظام ہے جس کے سربراہ کار افراد اگر چاہیں تو نہایت آسانی سے اس کو ڈکٹیٹرانہ راجیعہ کی شکل دے سکتے ہیں ایسی حالت میں آپ کے پاس وہ کون سا روک ہے جس کے ذریعہ آپ یہ توقع کرتے ہیں کہ ان سوشلسٹ حکمرانوں کو بگڑنے سے بچا سکیں گے جو تاریخ کے تمام شہنشاہوں سے زیادہ اختیارات کے حامل ہوں گے ۔ اسی پیچیدگی کا جواب دیتے ہوئے اشوک مہتا نے کہا ہے : ۱ جمہوری سوشلزم ، صفحہ ۱۳ ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader