Urdu book · سوشلزم اور اسلام

تجرباتی تردید

Urdu book, p. 99

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے کہ فلاں کمیونسٹ ملک میں ایک سازشی گروہ کا انکشاف ہوا ہے جو حکومت کا تختہ الٹ دینا چاہتا تھا اور بڑے بڑے لیڈر اور حکام اس الزام میں گرفتار کر کے جیلوں میں بند کر دیئے جاتے ہیں۔ کمیونسٹ حکومتوں کی اس دو طرفہ کارروائی نے خود ہی ان کے جھوٹ کا پول کھول دیا ہے، اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ کمیونسٹ حکومتوں کا یہ دعویٰ محض جھوٹا دعویٰ ہے کہ ان کے علاقہ میں پبلک پوری طرح مطمئن ہے اور حکومت سے اس قدر اتفاق رکھتی ہے کہ کمیونسٹ پارٹی کے سوا کسی دوسری پارٹی کے بنانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی۔ ظاہر ہے کہ اگر پبلک کے اطمینان کا وہی حال ہے جو آپ بتاتے ہیں تو جوابی انقلاب کی کوششیں نہیں ہونی چاہئیں جن میں خود آپ کے اقرار کے مطابق آپ کے ملک کے اعلیٰ ترین طبقہ تک کے لوگ شریک ہوتے ہیں۔ جب آپ کے یہاں انتخابات میں صد فی صد ووٹر اپنے ووٹ استعمال کرتے ہیں اور تمام کے تمام ووٹ کمیونسٹ نمائندوں کے حق میں دئے جاتے ہیں تو آخری مخالفین کہاں سے وجود میں آگئے ۔ کیا انتخاب کے وقت انھیں ووٹ دینے کا حق حاصل نہیں تھا ، یا مخالفت کے باوجود انھوں نے ووٹ آپ ہی کو دیا۔ آپ کا دعویٰ ہے کہ آپ کے ملک میں اظہار رائے اور تنظیم کی مکمل آزادی ہے۔ پھر ان مخالفین نے ایسا کیوں نہیں کیا کہ ملکی پریس میں آپ کے خلاف آواز بلند کرتے، اپنی علیحدہ جماعت بنا کر کوشش کرتے کہ آئینی طور پر موجودہ حکومت کو ہٹا سکیں۔ یہ واقعات اس بات کا کھلا ہوا ثبوت ہیں کہ کمیونسٹ ممالک میں پبلک کے اندر زبردست بے چینی کے باوجود اس کے اظہار کے تمام آئینی دروازے بند ہیں اس لئے وہ غیر آئینی طریقوں سے ظہور کر رہی ہے۔ کمیونسٹ حکومتوں کا ایک طرف یہ اعلان کرنا کہ انھیں انتخابات میں صد فی صد ووٹ ملتے ہیں اور دوسری طرف ہزاروں آدمیوں کو اس جرم میں قید کرنا کہ وہ موجودہ کمیونسٹ حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے تھے خود اس بات کا ثبوت ہے کہ کمیونسٹ ممالک میں انسانی آزادی کا خاتمہ کر دیا گیا ہے ۔ آدمی اگر موجودہ حکمراں گروہ سے اختلاف کرنا چاہے تو اس کے لئے تمام آئینی اور جمہوری دروازے بند ہیں۔ اس کو اس بات کی آزادی تو ضرور ہے کہ جب انتخابات کا ڈراما ہو تو اس میں حکمراں طبقہ کے نمائندوں کو اپنا ووٹ دیدے لیکن اگر وہ ان سے اختلاف رکھتا ہے یا انھیں بدلنا چاہتا ہے تو وہ کھلے بلیٹ فارم پر اپنی اس رائے کا اظہار نہیں کر سکتا ، اس کے لئے اسے سازشوں اور خفیہ کارروائیوں کا طریقہ اختیار کرنا پڑے گا۔ روس کے نئے لیڈروں نے اعلان کیا ہے کہ اب کبھی روس میں اسٹالن کی تاریخ نہیں دہرائی جائے گی اور سوویت یونین خالص مارکسی لینی طریقہ پر عمل کر کے اشتراکیت کی تعمیر جاری رکھے گا۔ مسٹر خروشیچ نے بیسویں کانگریس میں جو رپورٹ پیش کی تھی اس کے صاف معنی یہ تھے کہ مارکسزم اپنے اس دعویٰ میں بری طرح ناکام ہو گیا ہے کہ مادی حالات کی تبدیلی سے انسانی سماج کی اصلاح ہو سکتی ہے۔ مگر روسی لیڈروں نے یہ اعتراف اس لئے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page