تجرباتی تردید
Urdu book, p. 102
By Maulana Wahiduddin Khan
" سوشلزم کی اقتصادیات کا رجحان مرکزیت کی طرف رہتا ہے ۔ اس لئے اس کی سیاست کا جمہوری اور غیر مرکوز ہونا اور سنسکرتی کا آزاد ہونا از بس ضروری ہے ۔" مگر یہ جواب ایک موہوم تمنا سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتا ۔ سوشلسٹ مفکریں جب سرمایہ دارانہ نظام پر تنقید کرتے ہیں تو یہ ثابت کرنے میں پورا زور صرف کر دیتے ہیں کہ ذرائع معاش کا ایک گروہ کے ہاتھ میں آجانا یہ معنی رکھتا ہے کہ پوری سماجی زندگی اس گروہ کے ہاتھ میں چلی جائے اور سارا سماج اس کا غلام بن کر رہ جائے ۔ مگر اپنے محبوب سوشلسٹ نظام میں ذرائع معاش کو حکمراں طبقہ کے ہاتھ میں دے کر وہ امید رکھتے ہیں کہ پھر بھی آزادی اور جمہوریت باقی رہے گی ۔ سوال یہ ہے کہ جب سوشلسٹ نظام میں ایک بار سیاست اور اقتصادیات کو مرکوز کر دیا جائے گا تو پھر کون سی طاقت ہوگی جو دوسری چیزوں کو آزاد رکھ سکے گی ۔ اگر ملکیتی نظام میں نجی سرمایہ داروں کو کچھ مواقع حاصل ہوں تو وہ لٹیرے بن جاتے ہیں مگر سوشلسٹ نظام میں سینکڑوں گنا زیادہ اختیارات ایک محدود تر گروہ کے ہاتھ میں دینے کے بعد بھی یہ گمان کیا جاتا ہے کہ آزادی باقی رہے گی ۔ سوشلسٹ مفکریں کا یہ بہت بڑا تضاد ہے کہ وہ ایک طرف اس تمدنی حل کو صحیح سمجھتے ہیں جو مارکس نے تجویز کیا ہے دوسری طرف اس حل کی اولین تجربہ گاہ ــــ روس ــــ کی شدید مذمت کرتے ہیں کہ وہاں جبر و ظلم کا نظام قائم ہے ۔ سوال یہ ہے کہ روس میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ کیوں ہو رہا ہے ۔ آخر جمہوری ممالک میں وہی کچھ کیوں نہیں ہونے لگتا ۔ فرانس میں کوئی حکومت پائیدار نظام قائم نہیں کر سکی تو ملک نے پچھلے دس سال کے عرصہ میں ۷۵ حکومتیں بدل ڈالیں مگر روس میں پچاس سال کے عرصہ میں ایک بھی حکومت نہیں بدلی ۔ وہاں موت کے فرشتہ کے سوا اور کسی کو یہ طاقت حاصل نہیں ہے کہ حکمران شخص کو اپنے سر سے ہٹا سکے ۔ اس کا جواب اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ اجتماعی ملکیت کے نظام میں کسی حکومت کو اتنے وسیع اختیارات حاصل ہو جاتے ہیں جو کبھی کسی زمانہ میں کسی بدترین شہنشاہ کو بھی حاصل نہیں ہوئے تھے ۔ پھر آپ جو حکومت بنانے والے ہیں وہ اگر اقتدار پانے کے بعد اسی طرح بگڑ گئی جس طرح اسٹالن کی حکومت بگڑ گئی تھی تو آپ کیا کریں گے ۔ سوشلزم کو سیاسی جبر کے بغیر نافذ کرنے کا خیال ایک خطرناک خوش فہمی کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔ یہ انسان کی اس کمزوری کا نتیجہ ہے کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے اس کی تاویل کر کے ساری ذمہ داری حالات پر ڈال دینا چاہتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اسٹالن نے جو کچھ کیا وہ اشتراکی نظام اور جدلیاتی اخلاق کا لازمی نتیجہ تھا ۔ کوئی بھی دوسرا شخص جو اس کی جگہ ہوتا وہ اس کے سوا کچھ اور نہیں کر سکتا تھا جو اسٹالن نے کیا ۔ مارکس کو اقتدار نہیں ملا مگر اس کی تحریروں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader