تجرباتی تردید
Urdu book, p. 103
By Maulana Wahiduddin Khan
میں اس کا جو کردار نظر آتا ہے وہ سٹالن کے کردار سے کچھ بھی مختلف نہیں ہے۔ مارکس نے خود کہا تھا کہ ہم جلاوطن مئی ۱۸۴۹ء میں جب جرمنی کی حکومت نے مارکس کو جلا وطن کر دیا اور اس کو مجبوراً اپنا اخبار جدید رائیں گزٹ بند کر کے فرانس جانا پڑتا تو اخبار کے آخری نمبر ۱۹ مئی کی اشاعت میں اس نے لکھا: ” ہمیں ستانے کے بہانے ڈھونڈنے کے لئے حکومت کیوں جھوٹ اور افترا کے پل باندھ رہی ہے‘ ہم انقلابی میں جب ہمارے دن پھریں گے تو ہم اپنے تشدد کے لئے بہانے نہیں تراشیں گے “ اس طرح کی بہت سی تحریریں ہیں جن میں اشتراکیت کے پیغمبر کا اخلاق پڑھا جا سکتا ہے مگر بات صرف اتنی ہی نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ظلم اشتراکیت کی عین فطرت ہے۔ اجتماعی ملکیت کا حل ایک بالکل غیر فطری حل ہے اور تاریخ کی تمام روایات کے بالکل خلاف ہے اس کو نافذ کرنے اور نافذ رکھنے کے لئے تشدد ناگزیر ہے۔ سٹالن نے جو کچھ کیا وہ کمیوزم کے لازمی نتائج تھے جن کی ابتدا روئے زرد ثور کے ساتھ خود لین کے زمانہ میں ہو چکی تھی۔ ماسکو کا یہ اعلان کہ ” سٹالن آج کے دور کا لینن ہے “ ایک معنی میں اس کی تعریف ہے اور دوسرے معنی میں اس واقعہ کا اظہار ہے کہ لینن اگر زندہ رہتا تو اس کی پالیسی بھی وہی ہوتی جو بعد کے زمانوں میں سٹالن نے اختیار کی۔ لینن کو زیاد تر محنت کش طبقہ کے ان ” دشمنوں “ سے جنگ کرنی پڑی جو ” سرمایہ دار “ تھے اور سٹالن کو ان دشمنوں سے بھی لڑنا پڑا جو خود پارٹی کے اندر پیدا ہو گئے۔ لینن کا زمانہ انقلاب کی ابتداء کا زمانہ تھا۔ اس وقت اندرونی جھگڑے زیادہ نہیں ابھرے تھے۔ اس لئے اس کا نشانہ زیادہ تر روس کا ” آخری سرمایہ دار “ اور ملک کی غیر بالشویک پارٹیاں تھیں ۔ مگر سٹالن کے زمانہ میں خود پارٹی کے اندر لیڈر شپ حاصل کرنے کی جنگ شروع ہو چکی تھی جیسا کہ عموماً انقلاب کے بعد ہوتا ہے۔ اس لئے سٹالن کو ” گھر کے غداروں “ سے بھی لڑنا پڑا۔ لینن نے زیادہ تر باہر کے لوگوں پر ہاتھ صاف کئے تھے۔ سٹالن کو خود کمیونسٹوں کے خون سے بھی ہولی کھیلنی پڑی۔ یہ جو کچھ ہوا اگر خود مارکس روس کا وزیر اعظم ہوتا تو اس کو بھی وہی کچھ کرنا پڑتا جو سٹالن نے کیا۔ جہاں سماج کو دو متضاد طبقوں میں بانٹ دیا جائے وہاں دشمنی اور تشدد کا پیدا ہونا لازمی ہے۔ اور جب دشمنی اور تشدد کے رجحانات ایک بار پیدا ہو گئے تو وہ کسی ایک حد پر نہیں رکھتے۔ یہ سانپ صرف دوسروں کو نہیں ڈستا بلکہ خود اپنے بچوں کو بھی نگل جاتا ہے۔ مشہور سوشلسٹ لیڈر اشوک مہتا نے بہت صحیح کہا ہے کہ: ” زار کو قتل کرنے کے بعد ناگزیر طور پر آپ ٹراٹسکی کو بھی قتل کر دیتے ہیں “ ۵۷ء

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader