Urdu book · سوشلزم اور اسلام

سرخ جنت

Urdu book, p. 105

By Maulana Wahiduddin Khan

سرخ جنت کمیونزم کا دعویٰ ہے کہ تاریخ میں پہلی بار اس نے انسانیت کے مسائل کا صحیح حل پیش کیا ہے اور کمیونسٹ ممالک روئے زمین کے وہ خوش قسمت علاقے ہیں جہاں عملاً یہ حل اپنے نتائج دکھا رہا ہے۔ جہاں انسان کو وہ سب کچھ حاصل ہو گیا ہے جس کا وہ ابھی تک صرف خواب دیکھ رہا تھا۔ یہ ایک عظیم جھوٹ ہے جو صرف اس صورت میں قائم رہ سکتا ہے جب کہ کمیونسٹ ممالک کے بارہ میں معلومات حاصل کرنے کے تمام آزاد ذرائع ختم ہو جائیں اور صرف وہاں کی حکومتوں کے سرکاری بیانات ہی براہِ راست علم حاصل کرنے کا تنہا ذریعہ ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ اشتراکی ممالک اپنے جھوٹ کو صحیح ثابت کرنے کے لئے نشر و اشاعت کے تمام ذریعوں پر مکمل قبضہ کر لیتے ہیں اور شہری زندگی پر ایسی زبردست پابندیاں عائد کر دیتے ہیں کہ کسی شخص کے لئے ملک کے اندر رہتے ہوئے آزادانہ طور پر اظہارِ خیال کا موقع باقی نہیں رہتا۔ اس اعتبار سے بھی اشتراکیت کا ظلم و تشدد کوئی اتفاقی چیز نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شہری آزادی کو منسوخ کئے بغیر اشتراکیت کے دعوٰی کو ثابت ہی نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا پرستانہ نظام کے سوا دنیا میں کوئی بھی ایسا نظام نہیں ہے جو صحیح معنوں میں انسانیت کو خوش حالی اور امن دے سکے۔ انسانی سنت کا کوئی نظام اگر اپنی کامیابی ثابت کرنا چاہتا ہے تو اس کی ایک ہی شکل ہے 'وہ یہ کہ جس جگہ یہ نظام نافذ ہو اس کے گرد آہنی پردہ کھڑا کر دیا جائے تاکہ باہر سے کوئی شخص جھانک کر دیکھ سکے کہ اندر کیا ہو رہا ہے۔ اور اندرونی طور پر اس کی پالیسی یہ ہو کہ خیالات و افکار کے پھیلنے کے تمام ذرائع کو اپنے ہاتھ میں لے لے اور پھر فرضی طور پر دنیا کو یہ خبر سنائے کہ اس آہنی گھیرے کے اندر جنت بسی ہوئی ہے۔ اندر سے گولیوں کی آواز سنائی دے تو وہ کہے کہ غداروں کو ان کے انجام تک پہنچایا جا رہا ہے۔ کوئی شخص جیل کی دیوار پھاند کر بھاگ نکلے اور اندر کی داستان سے دنیا والوں کو خبردار کرنا چاہے تو وہ جواب دے کہ یہ دشمن کا ایجنٹ ہے جو ہمارے بارے میں غلط پروپیگنڈا کرتا ہے۔ یہ محض اتفاقی نہیں ہے کہ کمیونزم نے اپنی سیاسی تشکیل کے لئے ڈکٹیٹر شپ کو پسند کیا۔ اس کے سوا کوئی اور سیاسی ڈھانچہ اس کے مطلب کے لئے مفید ہی نہیں ہو سکتا تھا۔ اس کا دعوٰی اس کے بغیر ثابت نہیں ہو سکتا تھا کہ اس کو اپنے علاقے میں مکمل اقتدار حاصل ہو، جہاں حکومت کی زبان کے سوا تمام زبانیں بند کر دی گئی ہوں، جہاں تمام ذرائع و وسائل پورے طور پر اس کے قبضے میں ہوں، 'وہ جس کو چاہے گرفتار کرلے، جس کو چاہے جلا وطن کر دے جس کو چاہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page