Urdu book · سوشلزم اور اسلام

سرخ جنت

Urdu book, p. 106

By Maulana Wahiduddin Khan

گولی مار دے۔ جہاں پبلک کا کوئی پریس بھی نہ ہو جو اصل صورت حال سے دنیا کو باخبر کر سکے ۔ " سرخ جنت " کی ساری اہمیت اسی وقت تک ہے جب تک اس کے گرد آہنی پردہ پڑہا رہے۔ اس پردہ کے بغیر سرخ جنت کبھی قائم نہیں کی جاسکتی۔ یہی وجہ ہے کہ جن لوگوں نے " ڈکٹیٹر شپ " کے تصور کو الگ کرکے جمہوری طرز پر سوشلزم قائم کرنا چاہا۔ انہیں اس سلسلہ میں سخت ناکامی ہوئی۔ جاپان میں 1958ء کے انتخابات میں سوشل ڈیمو کریٹک پارٹی کے ٹکٹ پر ایک سو ممبر کامیاب ہوئے تھے۔ اس کے بعد جب 1960ء میں دوسرا الیکشن ہوا تو پارٹی کے کامیاب ممبروں کی تعداد 147م ہو گئی۔ اس وقت سوشل ڈیمو کریٹک پارٹی پارلیمنٹ کی سب سے بڑی پارٹی تھی۔ اس نے مخلوط وزارت بنانے کا فیصلہ کیا اور غیر سوشلسٹ عناصر کے ساتھ مل کر جاپان میں اپنی حکومت قائم کی۔ اس کا نتیجہ بظاہر یہ ہونا چاہئے تھا کہ جاپان کی پبلک سرمایہ دارانہ نظام کی جگہ جمہوری سوشلزم کی برکتوں کو دیکھ کر بالکل اس پر فدا ہو جاتی اور اگلے الیکشن میں وہاں کی سوشلسٹ پارٹی کو صدر فی صد ووٹ ملتے مگر ہو کیا۔ دو برس کے بعد 1962ء میں جب جاپان کے عام انتخابات ہوئے تو سوشل ڈیمو کریٹک پارٹی کے ممبران کی تعداد پارلیمنٹ میں 147 سے گھٹ کر صرف 88 رہ گئی ہے ہند ستان میں بھی اس قسم کے تماشے ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں۔ 1957ء کے آخر میں ٹراون کور کوچین (موجودہ کیرالا) میں پر جا سوشلسٹ پارٹی کی وزارت قائم ہوئی۔ تھوڑے دنوں بعد وہاں کی حکومت کے بعض اعمال کی وجہ سے پبلک میں شورش پیدا ہوگئی یہاں تک کہ عوام اور حکومت میں تصادم کی نوبت آگئی۔ 11 اگست 1958ء کو پولیس فائرنگ ہوئی جس میں ایک درجن آدمی زخمی ہوئے اور آٹھ آدمی ہلاک ہوگئے ۔ یہ فائرنگ کسی اشتراکی اسٹیٹ میں نہیں ہوئی تھی کہ دنیا کو اس کی آواز ہی سنائی نہ دیتی، فورا اس کی خبر سارے ملک میں پھیل گئی اور سوشلسٹ حکومت پر سخت اعتراضات ہونے لگے۔ خود پارٹی کے اندر سخت انتشار پیدا ہوگیا۔ بالآخر اس وزارت کا انجام یہ ہوا کہ اسمبلی میں خود پارٹی کے ایک ممبر نے اس کے خلاف عدم اعتماد کا زولیوشن پیش کیا جو کثرت رائے سے پاس ہوگیا اور صرف دس دن جینے کام کرنے کے بعد یہ وزارت ختم ہوگئی۔ معاشی خوش حالی کی حقیقت بعض لوگ اس قسم کی دلیل دیتے ہیں کہ " سیاسی طور پر سوویت روس میں ڈکٹیٹر شپ سہی اور یہ بھی درست ہے کہ اس نے شخصی آزادی پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اس نے بھوک کے بنیادی مسئلہ کو حل کر لیا ہے " یہ کہنا دوسرے لفظوں میں اس بات کا دعویٰ کرنا ہے کہ ظلم اور انصاف'

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page