Urdu book · سوشلزم اور اسلام

سرخ جنت

Urdu book, p. 107

By Maulana Wahiduddin Khan

دینا اور چھیننا دونوں حالتیں بیک وقت ایک جگہ جمع ہو سکتی ہیں۔ تاہم اگر کمیونزم کا کمال یہی ہے تو یہ صرف سوویت روس یا دوسرے کمیونسٹ ممالک کی خصوصیت نہیں، دنیا کے تمام جیل خانوں میں چیز بہت پہلے سے موجود ہے۔ جیل کا قانون اگرچہ انسان کی آزادی پر پابندی عائد کرتا ہے اور اس کے اوپر ظلم کو جائز قرار دیتا ہے مگر بھوک کے بنیادی مسئلہ کو اس نے بھی حل کر دیا ہے۔ اور ماضی کے تاریک دور میں غلام سماج کے اندر غلاموں اور جاگیرداری سماج کے اندر کییروں (Serfs) کو بھی یہ چیزیں حاصل تھیں ان سے ان کی آزادی چھین لی گئی تھی مگر ان کے آقاؤں نے "بھوک کے بنیادی مسئلہ" کو ان کے لئے حل کر دیا تھا۔ تاہم اس سے قطع نظر، جو لوگ روس کی معاشی خوش حالی کا قصیدہ پڑھتے ہیں۔ میں ان سے پوچھتا ہوں کہ یہ خبر آپ کو ملی کہاں سے۔ کیا روسی اخبارات اور وہاں سے شائع ہونے والی کتابوں کے ذریعہ۔ مگر یہ تمام اخبارات اور کتابیں خود حکومت کی طرف سے شائع ہوتی ہیں، پھر ان کا کیا اعتبار۔ یہ تو خود فریق کا اپنا بیان ہے نہ کہ کسی غیر جانب دار شخص کا۔ پھر جس طرح روس کا یہ دعویٰ ہے کہ اس کے باشندے معاشی اعتبار سے بہت خوش حال ہیں، ٹھیک اسی طرح وہ اس بات کو بھی نہایت زور و شور کے ساتھ پیش کرتا ہے کہ روس میں مکمل آزادی ہے" بلکہ اس کا تو دعویٰ ہے کہ روس کے ۲۰ کروڑ عوام تاریخ میں وہ پہلے عوام ہیں جو حقیقی معنوں میں آزاد ہوئے ہیں۔ پھر کس بنیاد پر آپ ایک ہی شخص کے دعوے کو ایک معاملہ میں صحیح تسلیم کرتے ہیں اور دوسرے معاملہ میں اس کو جھوٹا قرار دیتے ہیں۔ اور اگر روس کی فراہم کردہ معلومات پر آپ کے دعوے کی بنیاد نہیں ہے تو کیا زائرین روس کے بیانات اس کا ماخذ ہیں۔ مگر زائرین کے بیانات میں زبردست تضاد ہے کمیونسٹ نواز سیاح اگر یہ کہتے ہیں کہ وہاں معاشی جنت بسی ہوئی ہے تو اس کے مخالفین کا بیان اس کے بالکل برعکس ہے۔ پھر آپ کس سے تسلیم کریں گے۔ کیا آپ نے روس یہاں ایک واقعہ کا ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہوگا جو اس وقت پیش آیا جب ہندوستان کے دوسرے عام الیکشن سے پہلے کمیونسٹ پارٹی ملک کی بدحالی اور حکومت کی نالائقی کا حوالہ دے کر اپنے لئے ووٹ مانگ رہی تھی۔ جنوری، ۱۹۵۷ء میں کلکتہ کی ایک پریس کانفرنس میں کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سکریٹری مسٹر اجے گھوش سے پوچھا گیا کہ چین کے وزیراعظم مسٹر چوبین لائی کی ان تقریروں سے آئندہ انتخابات پر کوئی اثر پڑے گا جس میں انھوں نے موجودہ حکومت کی تعریف کی ہے اور ہندوستان کی ترقیوں کا اعتراف کیا ہے" تو انھوں نے جواب دیا کہ " ہم ملک کا حال زیادہ جانتے ہیں نہ کہ ایک غیر ملکی جو ہمارے ملک میں صرف چند دن کے لئے آئے" غیر ملکی سیاح اگر ہندو ستان کو ترقی یافتہ کہیں تو اس سے ہندوستان کی ترقی ثابت نہیں ہوتی۔ مگر اسی قسم کے لوگ روس کا قصیدہ پڑھیں تو اس سے وہاں کی ترقی ثابت ہو جاتی ہے۔ یہ ہے کمیونسٹ منطق۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page