سرخ جنت
Urdu book, p. 108
By Maulana Wahiduddin Khan
جبکہ وہاں کے باشندوں سے براہِ راست معلومات حاصل کی ہیں۔ لیکن جب آپ خود وہاں سیاسی جبر کو تسلیم کرتے ہیں تو آپ کیسے یقین کرتے ہیں کہ وہاں کا کوئی باشندہ آپ سے ایسی باتیں کہے گا جو حکومت کی اعلان کردہ پالیسی کے خلاف ہو۔ کمیونسٹ ملکوں میں زبان کی آزادی نہیں ہے۔ اس لئے وہاں کی ہر اطلاع سرکاری اطلاع ہوتی ہے۔ روس میں جو لوگ سیاحت کی غرض سے جاتے ہیں وہ جب سرکاری انتظام کے تحت حکومت کے ترجمان کے ذریعہ وہاں کے کسی باشندہ سے گفتگو کرتے ہیں تو وہ ہمیشہ اپنے ملک کی تعریف میں قصیدہ سناتا ہے مگر دوسری طرف صرف کمیونسٹ ممالک ہی دنیا میں ایسے ملک ہیں جہاں سے ہزاروں لاکھوں باشندے بھاگ بھاگ کر مستقل طور پر باہر کے ملکوں میں پناہ لے رہے ہیں اور اپنے ملک کے بارہ میں ایسے ہولناک واقعات کا انکشاف کرتے ہیں جس کا تصور بھی آدمی کو لرزا دینے کے لئے کافی ہے۔ ایسی حالت میں کونسی بات مانی جائے اور کونسی بات نہ مانی جائے۔ مہاتما گاندھی نے صحیح کہا تھا کہ جس ملک میں لوگ شخصی آزادی اور تحریر و تقریر کی آزادی سے محروم ہوں وہاں یہ پتہ چلانا نا ممکن ہو جاتا ہے کہ لوگ فاقہ سے نہیں مر رہے ہیں۔ اس موقع پر میں ان مغالطہ آمیز معلومات کا تجزیہ نہیں کروں گا جو روس کی ترقی ثابت کرنے کے لئے عموماً پیش کی جاتی ہیں۔ میں اس سے بحث نہیں کروں گا کہ روس پر کتابیں لکھنے والے بیشتر مصنف اس کی مشینوں، فیکٹریوں گندھک کے تیزاب اور ٹریکٹروں کی باتیں کرنے لگتے ہیں، حالانکہ انہیں ذکر کپڑے، مکان، اناج اور مکھن کا کرنا چاہئے۔ وہ ان دونوں قسم کی چیزوں کو خلط ملط کر دیتے ہیں۔ حالانکہ ان دونوں کی نوعیت جداگانہ ہے اور یہ ضروری نہیں کہ ان میں سے ایک کی موجودگی لازمی طور پر دوسری نوع کی چیزوں کی فراوانی کا سبب بنے۔ میں اس کا ذکر بھی نہیں کروں گا کہ اشتراکی ملکوں میں ترقیاتی منصوبوں کی قبل از وقت کامیابی کی داستان کس طرح محض دھوکا ہے۔ کیونکہ پر جاسوس شکست لیڈر اچاریہ کرپلانی کے بقول ’’منصوبوں کی کامیابی کا دار و مدار تو اچھے سکریٹریوں پر ہوتا ہے جو اعداد و شمار کے گورکھ دھندے کی مدد سے منصوبہ کو کامیاب بنا دیتے ہیں‘‘۔ میں اس کا بھی ذکر نہیں کروں گا کہ روس میں اجرتوں کی بڑی بڑی شرطیں جن کا اعلان بڑے زور شور کے ساتھ ہوتا رہتا ہے اس وقت کتنی بے معنی ہو جاتی ہے جب ان کا مقابلہ وہاں ضروریاتِ زندگی کی بے انتہا بڑھی ہوئی قیمتوں سے لگایا جائے۔ میں اس کا بھی ذکر نہیں کروں گا کہ اشتراکی ملکوں میں وزراء اور بڑے بڑے عہدے داروں کے بارہ میں بہت کم تنخواہ لینے کا پروپیگنڈا اس وقت سراپا جھوٹ معلوم ہوتا ہے جب اس حقیقت پر نظر ڈالی جائے کہ تنخواہ کے نام سے تو ضرور بعض اوقات وہ ایک معمولی رقم لیتے ہیں مگر قیمتی الاؤنس اور خوراک اور رہائش وغیرہ کے مفت انتظام کے ذریعہ وہ سب کچھ حاصل کر لیتے ہیں جو کسی لورژوا ملک کے وزراء اور عہدے داروں کو دیا جاتا ہے، میں اس کا بھی ذکر نہیں کروں گا کہ محض چند تقریروں اور مضامین کے ذریعہ کس طرح

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader