Urdu book · سوشلزم اور اسلام

سرخ جنت

Urdu book, p. 109

By Maulana Wahiduddin Khan

کسی ملک کے واقعی حالات کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس طرح کی تحریریں تو ہر ملک کے بارے میں فراہم کی جاسکتی ہیں۔ میں اس سے کبھی بحث نہیں کروں گا کہ اشتراکی ملکوں میں عام پبلک کی خوش حالی کی داستان ہمیشہ اوسط اعداد و شمار کی شکل میں پیش کی جاتی ہے، حالانکہ اوسط اعداد و شمار سے عام پبلک کی خوش حالی ثابت کرنا ایک فریب کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ بنیادی سوال یہ تمام بحثیں دراصل بعد کی بحثیں ہیں، سوال یہ ہے کہ معاشی بہتری اور خوش حالی کے بارے میں ان دعووں کی نظریاتی توجیہ کیا ہے ۔ روس یا دوسرے اشتراکی ممالک یہ دعویٰ کیوں کرتے ہیں کہ جو مسئلہ دوسرے ملکوں میں حل نہ ہوسکا وہ ان کے یہاں حل ہوگیا ہے۔ اشتراکی ملکوں کی وہ کون سی خصوصیت ہے جو انھیں سرمایہ دار ممالک سے ممتاز کرتی ہے۔ یہ خصوصیت اجتماعی ملکیت کا نظام ہے۔ کمیونسٹ حضرات کا یہ دعویٰ ہے کہ اشتراکی ملکوں میں اور خاص طور پر روس میں انھوں نے سوشلزم کو قائم کر لیا ہے اور خوش حالی کے جو افسانے نشر کئے جاتے ہیں وہ سب دراصل اسی کے نتائج یا اسی دعوے کی دلیلیں ہیں۔ ہم یہاں اسی اصل دعوے کی بابت گفتگو کریں گے۔ یہ صورتِ حال جو ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ غریب اور کچھ لوگ امیر بنے ہوئے ہیں اس کی وجہ کیا ہے۔ مارکسزم کے نزدیک اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ انسانی محنت کی پیدا وار جو خود محنت کرنے والے کو ملنی چاہئے وہ دوسروں کو مل جاتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں افلاس کا سبب یہ ہے کہ آدمی جتنا کماتا ہے وہ پورا اسے نہیں ملتا، اور امارت کا سبب یہ ہے کہ آدمی کی کمائی کے اس بقیہ حصہ کو کچھ لوگ مفت میں ہڑپ کر لیتے ہیں۔ مثلاً بہت سے لوگ کارخانہ اور زرعی فارم قائم کرتے ہیں اور ان سے بڑے بڑے نفع حاصل کرتے ہیں۔ یہ نفع دراصل ان مزدوروں کی مزدوری کاٹ کر حاصل کیا جاتا ہے جو ان میں کام کرتے ہیں۔ مارکس کے الفاظ میں مزدوروں کی مزدوری جو غصب کی جاتی ہے وہی نفع کہلاتی ہے “ مارکس کے اس نظریہ کو ’’قدر زائد‘‘ کا نظریہ کہا جاتا ہے جس کے ذریعہ وہ اس بات کی تشریح کرتا ہے کہ سرمایہ دارانہ سماج میں ایک طرف افلاس اور دوسری طرف دولت کی فراوانی کیونکر پیدا ہوتی ہے۔ مارکس کہتا ہے کہ کوئی تیار شدہ چیز جو ایک مخصوص قیمت پر بازار میں بکنے آتی ہے ۔ اس کی قیمت کا انحصار صرف دو قسم کی چیزوں پر ہے۔ اولاً کچا مال اور مشین وآلات وغیرہ اور دوسرے محنت کی قوت پیدا دار جس کا لحاظ وقت تعیین ہوتا ہے۔ اس تصور کے مطابق کسی چیز میں جو قیمت پیدا ہوتی ہے اس کا سبب قدرتی اشیار کے بعد وہ انسانی محنت ہے جو اس کے بنانے پر صرف ہوتی ہے۔ اس لئے کسی چیز کی تیاری اور تنظیم میں سرمایہ دار کا ذہن جو کچھ کرتا ہے اور اس کو قابل منفعت بنانے کے لئے وہ کارخانہ سے باہر جو کوششیں انجام دیتا ہے مارکس کے نزدیک وہ ’’محنت‘‘ میں شامل نہیں ہے۔ محنت صرف وہ چیز ہے جس کو مزدور خرچ کرتا ہے۔ اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page