سرخ جنت
Urdu book, p. 110
By Maulana Wahiduddin Khan
کسی تیار شدہ چیز کی فروخت سے جو قیمت حاصل ہو اصولی اعتبار سے اس کو صرف مزدور اور اس میں لگی ہوئی قدرتی اشیاء کی طرف لوٹنا چاہئے، سرمایہ دار کا اس میں کچھ حصہ نہیں ہونا چاہئے۔ مثلاً کپڑے کا ایک تھان ساڑھے چار سو ڈالر میں فروخت ہوتا ہے۔ فرض کیجئے کہ اس میں کچامال، ایندھن، مشینری، عمارت کا کرایہ وغیرہ کی صورت میں دو سو ڈالر لگے ہیں اور دو سو ڈالر مزدوروں کو اجرت کے طور پر دیئے گئے ہیں۔ اس طرح اس کی لاگت چار سو ڈالر ہوئی۔ مگر اس کو ساڑھے چار سو میں بیچ کر جو مزید پچاس ڈالر حاصل کئے گئے وہ کہاں سے آئے ، مارکس کہتا ہے کہ یہ ڈالر بھی مزدوروں ہی کا حصہ تھا۔ مگر سرمایہ دار نے ان کی اجرت میں کمی کرکے کے پچاس ڈالر بچا لئے اور منافع کے نام سے ان پر خود قبضہ کرلیا۔ یہی وہ ”قدر زائد“ ہے جس کی وجہ سے سرمایہ دار طبقہ کے پاس سرمایہ کے ڈھیر لگ جاتے ہیں۔ سرمایہ دار کو لوٹ کا یہ موقع ملکیتی نظام میں ملتا ہے جس میں پیداوار کے ذرائع افراد کے قبضہ میں ہوتے ہیں۔ اس لئے مارکس کی تشخیص ہے کہ ذرائع پیداوار کو اجتماعی ملکیت بنا دیا جائے یعنی جو پیدا وار تیار کرے وہی اس کا مالک بھی ہوتا کہ پورا منافع اسی کو ملے نہ کسی دوسرے کو۔ نظریہ قدر زائد کے مطابق سرمایہ دار کارخانہ سے جو منافع لیتا ہے، وہ ”قانونی ڈاکا زنی“ ہے۔ فرسٹ انٹرنیشنل کا تیسرا اجلاس ستمبر ۱۸۶۸ء میں برو سلز میں ہوا۔ اس میں ایک قرار داد ”مزدور کی پیداوار مزدور کے لئے“ پاس ہوئی تھی جو حسب ذیل ہے: " بردہ سماج جو کہ جمہوری اصولوں پر قائم ہو، سرمایہ کے ہر تصرف کو نا جائز قرار دیتا ہے ۔ چاہے وہ تصرف کرایہ کی شکل میں ہو ، سود کی شکل میں ہو، منافع کی شکل میں ہو چاہے کسی اور شکل میں ہو، محنت کو اس کی پوری اجرت ملنی چاہئے اور اس کے پورے حقوق اس کے قبضہ میں ہونے چاہئیں"۔ اس بات کو ایک اور پہلو سے دیکھئے۔ مارکس نے انسانی سماج کے ارتقا کا جو نظریہ پیش کیا ہے اس کے مطابق وہ موجودہ حالت سے مستقبل تک اس کے تین دور قرار دیتا ہے۔ سرمایہ دارانہ سماج ، سوشلٹ سماج‘ اور کمیونسٹ سماج ‘ سرمایہ دارانہ سماج وہ ہے جو اس وقت موجود ہے اور جو مارکس کے نزدیک بد ترین سماج ہے۔ کمیونسٹ سماج اس کا وہ آئیڈیل ہے جہاں وہ انسانیت کو لے جانا چاہتا ہے اور سوشلٹ سماج سرمایہ داری سے کمیونزم کی طرف سفر ارتقا کا عبوری دور ہے۔ مارکس کے نزدیک تینوں قسم کے سماج معاشی اسباب کے تحت پیدا ہوتے ہیں۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ آدمی کو زندہ رہنے کے لئے بہت سی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے‘ یہ چیزیں کوئی ایک شخص تیار نہیں کر سکتا۔ اس لئے بہت سے لوگ مل کر انہیں بناتے ہیں۔ کوئی شخص ایک کام کرتا ہے ، کوئی دوسرا اور کوئی تیسرا۔ اور پھر اپنی پیدا وار کا ایک حصہ دوسروں کو دے کر ان سے وہ چیزیں حاصل کر لیتے ہیں جو وہ خود نہیں بنا سکے ۔ اسی باہمی لین دین سے وہ اجتماعی زندگی پیدا ہوتی ہے جس کو ہم سماج کہتے ہیں۔ مارکسی نقطہ نظر کے مطابق سماج اس کے سوا کسی چیز کا نام نہیں کہ وہ باہمی لین دین کی اجتماعی صورت ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader