Urdu book · سوشلزم اور اسلام

سرخ جنت

Urdu book, p. 111

By Maulana Wahiduddin Khan

مارکسی نقطہ نظر کے مطابق کسی سماج کے بارے میں یہ معلوم کرنے کے لئے کہ وہ ترقی کے کس مرتبہ پر ہے یہ دیکھنا چاہئے کہ وہاں لین دین کس طرح ہوتا ہے یعنی دین یا تو چیزوں کی قدر تبادلہ (Exchange value) کے مطابق ہوگا۔ یا قدر اصل (Intrinsic value) کے مطابق یا قدر استعمال (Use value) کے مطابق۔ قدر استعمال کسی چیز کی اس خصوصیت کو کہتے ہیں کہ وہ انسان کی ایک ضرورت پوری کرتی ہے۔ قدر اصل اس کی وہ واقعی قیمت ہے جو انسانی محنت کی بنا پر اس کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ اور قدر تبادلہ اس کی وہ قیمت ہے جو رسد اور طلب کی کشمکش سے معین ہوتی ہے۔ اور کبھی کم اور کبھی زیادہ ہوتی رہتی ہے جس سماج میں اجناس کا تبادلہ قدر استعمال کے نقطہ نظر سے ہو وہ سماج کمیونسٹ سماج کہا جائے گا جس سماج میں اجناس کا تبادلہ قدر اصل کے نقطہ نظر سے ہو وہ سماج سوشلسٹ سماج کہا جائے گا۔ اور جہاں اجناس کا لین دین قدر تبادلہ کے نقطہ نظر سے ہو وہ سماج سرمایہ دارانہ سماج کہا جائے گا سماج کی ان تینوں قسموں کی تشریح دوسرے لفظوں میں اس طرح کی جا سکتی ہے کہ جس سماج میں چیزوں کا لین دین نفع کی غرض سے ہو وہ سرمایہ دارانہ سماج ہے۔ جس میں کوئی کسی سے نفع کا طالب نہ ہو اور ہر شخص کو اس کی محنت کے بقدر پورا معاوضہ مل جائے وہ سوشلسٹ سماج ہے اور جہاں آدمی ان دونوں قیدوں سے بے نیاز ہو جائے، جہاں نہ تو ایسا ہو کہ آدمی ایک دوسرے سے نفع حاصل کرنا چاہئے ، نہ یہی ضروری ہو کہ کوئی شخص جتنا کرے اتنا ہی اس کو ملے۔ بلکہ ہر شخص کو کسی رکاوٹ کے بغیر اس کی ضروریات حسب خواہش اسی طرح مل جائیں جیسے آج ہوا اور پانی مل رہے ہیں، وہ کمیونسٹ سماج ہے جو مارکس کے عقیدے کے مطابق انسانی سماج کے ارتقا کی بلند ترین منزل ہے۔ یہ ایسا سماجی نظام ہے جس میں اجناس کی صرف قدر استعمال دیکھی جائے گی اور اسی نقطہ نظر سے افراد مختلف جنسوں کا تبادلہ کریں گے۔ یعنی آپس میں تبادلہ کرتے وقت یہ نہ دیکھا جائے گا کہ کس نے کتنی محنت خرچ کی ہے اور اس کا اسے کتنا معاوضہ ملنا چاہئے۔ تمام تبادلے صرف ضرورت کے پیش نظر ہوں گے نہ کہ نفع طلبی یا معاوضہ خدمت کے طور پر: "اگر کسی سماج میں جنس کی صرف قدر استعمال ہی دیکھی جانے لگے تو وہاں جنس کی قدر اصل اور نسبت تبادلہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوگا۔ اس سماج میں انسان دو پکوں کی طرح تبادلہ کریں گے جن میں سے ایک کے پاس نارنگی ہے اور دوسرے کے پاس گڈلنا ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے کی چیز لینا چاہتے ہیں تو یہ آپس میں تبادلہ کر لیں گے یہ یہاں دونوں بچوں کے سامنے نارنگی اور گڈلنے کی قدر یہ استعمال ہے۔ اگر بچوں کا نقطہ نظر قدر اصل اور نسبت تبادلہ ہوتا تو جس بچے کے پاس گڈلنا تھا وہ یہ مطالبہ کرتا کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page