سرخ جنت
Urdu book, p. 112
By Maulana Wahiduddin Khan
چار در جن نارنگیاں لاؤ تب گڈا ملنا دوں گا۔ جس ساج میں جنس کو قدیر استعمال ہی کے زاویہ نگاہ سے دیکھا جانے لگے، اس سماج میں جنس کا تبادلہ اسی طرح ہوگا جیسا کہ بچن نے کر لیا۔ ان بچوں اور کیو نسٹ سماج کے اجناس کے تبادلہ میں صرف یہ فرق ہو گا کہ بچوں نے یہ تبادلہ غیر شعوری طور پر کیا۔ لیکن کیو نسٹ سماج میں ایک خاص اقتصادی، سیاسی اور اخلاقی ماحول میں یہ تبادلہ شعوری طور پر ہوگا۔“ جہاں تک مارکزم کی آخری منزل یعنی کمیونسٹ سماج کا تعلق ہے، اشتراکی حضرات کا یہ دعوئی نہیں ہے کہ انھوں نے اس آخری منزل تک رسائی حاصل کر لی ہے۔ نہ بقدیر ہوش و حواس کوئی کمیونسٹ اس کا دعوئی کر سکتا ہے۔ فی الحال ان کا دعوئی صرف یہ ہے کہ انھوں نے انسانی سماج کو سوشلزم تک پہنچا دیا ہے یعنی موجودہ اشتراکی ملکوں میں ہر شخص کو اس کی ضرورت کے بقد ر اشیاء تو فراہم نہیں کی جاسکی ہیں مگر انسان کے ہاتھوں انسان کا استحصال ختم ہو گیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں سرمایہ دار ممالک کے مقابلہ میں اشتراکی ملکوں کی خوشحالی کا سبب یہ ہے کہ ایک جگہ آدمی کو اس کی محنت کا پورا معاوضہ نہیں ملتا اور دوسری جگہ آدمی کو اس کی پوری کمائی مل جاتی ہے۔ سرمایہ دار ممالک میں آدمی محنت کر کے جو کچھ کماتا ہے اس میں سے ایک حصہ سرمایہ دار اچک لے جاتا ہے، اس طرح خود محنت کرنے والے کے پاس اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے تھوڑی رقم رہ جاتی ہے۔ اس کے برعکس سوشلسٹ ممالک میں یہ اچکنے کا عمل ختم ہو گیا ہے اور آدمی کو اس کی محنت کی پوری کمائی دیدی جاتی ہے۔ اس اصول کے مطابق ہم کو ایک ایسی واضح بنیاد مل جاتی ہے جس کی روشنی میں جانچ کر ہم یہ دیکھ سکیں کہ کمیونسٹ ممالک میں فی الواقع خوشحالی آئی ہے یا نہیں۔ اشتراکی ملکوں میں جو کچھ ہوا ہے وہ صرف یہ ہے کہ ذرائع پیداوار کی ملکیت افراد کے بجائے حکومت کے ہاتھ میں چلی گئی ہے۔ مگر انسان کے ہاتھوں انسان کا استحصال ختم ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ زمین اور کارخانے کے نجی مالکوں کو برطرف کر کے ان کو ”سماجی ملکیت“ کے ٹھیکیداروں کے قبضہ میں دید یا جائے۔ بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ مارکسی تشریح کے مطابق ہر شخص اپنی محنت کے بقد ر پورا معاوضہ پانے لگے اور اس کی محنت کے حاصل میں کوئی دوسرا شخص شریک نہ ہو۔ جیسا کہ اوپر بتایا گیا، مارکسی نظریہ کے مطابق کسی پیداواری نظام میں جو منافع ہوتا ہے وہ تمام تر ان لوگوں کی محنت کا نتیجہ ہے جو اس کو تیار کرتے ہیں یعنی مزدور۔ اس لئے پیدا وار کا سارا منافع مزدوروں کو ملنا چاہئے ۔ اس کا کہنا ہے کہ کسی چیز کی تیاری میں جو ہاتھ کام کرتے ہیں وہی اس میں قیمت پیدا کرتے ہیں اس لئے وہی اس کے پورے فائدے کے مستحق ہیں۔ منافع کی ایسی تقسیم جس میں ایسے لوگوں کو بھی شریک کیا جائے جو اس کی تیاری میں براہ راست حصہ نہیں لیتے اور دور بیٹھ کر محض اس کی رہ نمائی کرتے ہیں، گویا ایک طرح کی لوٹ ہے جس کو قانون نے جائز کر دیا ہے ۔ کارخانہ کا مالک جو محض اپنے سرمایہ اور انتظام کی وجہ سے اس کے منافع میں حصہ دار بن جاتا ہے وہ حصہ دار نہیں بلکہ ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader