Urdu book · سوشلزم اور اسلام

سرخ جنت

Urdu book, p. 113

By Maulana Wahiduddin Khan

ڈاکہ ہے جو مزدوروں کی محنت کی کمائی غصب کر رہا ہے۔ اس نقطۂ نظر کے مطابق سوشلسٹ سماج کے معنی یہ ہوئے کہ وہاں زمین اور کارخانے کی تمام پیداوار صرف ان لوگوں کی ملکیت ہونی چاہئے جو "محنت کر کے اسے پیدا کرتے ہیں، اس کا سارا منافع انھیں کو ملنا چاہئے اور اس میں کسی دوسرے کا حصہ نہیں ہونا چاہئے۔ مگر کیا ایسا ممکن ہے اور کیا کسی اشتراکی ملک میں اس پر عمل کیا جا رہا ہے ۔ کھلی ہوئی بات ہے کہ کوئی کارخانہ محض مزدوروں کے ذریعہ نہیں چلایا جا سکتا۔ بلکہ اس کے لئے منتظمین کی ضرورت ہوتی ہے۔ ملکیتی نظام میں یہ خدمت نجی مالک یا اشتراکی اصطلاح میں سرمایہ دار طبقہ انجام دیتا ہے۔ اور اشتراکی نظام میں یہ خدمت براہ راست حکومت انجام دے گی۔ پھر حکومت کے اخراجات اور انتظامی عہدیداروں کی تنخواہ کہاں سے دی جائے گی۔ اگر کارخانہ کی آمدنی سے اسے حاصل کیا جائے تو کیا اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہی سابق لوٹ نئی شکل میں واپس آگئی ہے۔ سرمایہ دار مزدوروں کی اجرت میں کمی کر کے ایک رقم بچا لیتا تھا اور منافع کے نام سے اس پر قبضہ کر لیتا تھا۔ آپ بھی اسی طرح کارخانہ کی آمدنی سے ایک رقم بچا کر حکومت کی طرف منتقل کر دیتے ہیں تاکہ اس کے اخراجات پورے ہوسکیں۔ پھر دونوں میں فرق کیا ہوا۔ کیا یہ ایک لوٹ کو مٹا کر دوسری لوٹ کو قائم کرنا نہیں ہے۔ کیا اس لوٹ کو باقی رکھتے ہوئے خوشحالی کا وجود ممکن ہے۔ اشتراکی ملکوں میں یہ نئی قسم کی لوٹ پورے زور شور کے ساتھ جاری ہے۔ میں ژیر ژنسکی کارخانے کی مثال دیتا ہوں جو سوویت یونین کی کپڑے کی صنعت کے مرکزی شہر ایوانوو (Ivanovo) میں واقع ہے اور ملک میں سوت کاٹنے کا سب سے بڑا کارخانہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کارخانے میں ۱۹۵۷ء کے اعداد وشمار کے مطابق مزدوروں کی اجرت اور دیگر اخراجات ادا کرنے کے بعد منافع کے طور پر جو رقم حاصل کی گئی ہے وہ چار کروڑ روبل ہے۔ اس میں سے کچھ رقم ڈائرکٹر فنڈ وغیرہ میں دی گئی اور تین کروڑ ساٹھ لاکھ روبل حکومت کے خزانہ میں منتقل کر دیئے گئے ۔ یعنی منافع کا ۹۰ فی صد حصہ کیا یہ ٹھیک وہی سرمایہ دارانہ نظام کا "قدر زائد" نہیں ہے جو اشتراکی ملک میں نئے قسم کے سرمایہ دار وصول کر رہے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کے لئے اشتراکی حضرات کا فتویٰ ہے کہ " مزدور کی جو مزدوری غصب کی جاتی ہے وہی نفع کہلاتی ہے "، پھر نام نہاد اشتراکی نظام میں مزدور کی پیدا دار سے جو منافع حاصل کیا جاتا ہے وہ بھی آخر مزدوروں کی غصب کی ہوئی اجرت کیوں نہیں ہے ۔ سوویت روس کے مرکزی بجٹ کی آمدنی کا پچاس فی صد حصہ ریاستی کارخانوں اور معاشی تنظیموں سے آتا ہے ۔ ۱۹۵۷ء کے بجٹ میں منافع کی یہ رقم ایک کھرب چھپن ارب نوے کروڑ روبل بتائی گئی ہے۔ میں حکومتوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page