Urdu book · سوشلزم اور اسلام

سوشلزم کا فلسفہ

Urdu book, p. 120

By Maulana Wahiduddin Khan

سوشلزم کا فلسفہ "ڈارون نے فطرت میں ارتقار کا قانون دریافت کیا تھا، مارکس نے یہی قانون انسان کی سماجی تاریخ میں دریافت کیا ہے" یہ فریڈرش انگلس کا ایک فقرہ ہے جو اس نے ، 14 مارچ 1883ء کو لندن میں اپنے دوست کارل مارکس کی قبر پر تقریر کرتے ہوئے کہا۔ اس مختصر سے فقرہ میں انگلس نے مارکسی نظریہ کا پس منظر اور اس کی حقیقت دونوں بیان کردی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سوشلزم ـــــــــ جس کو مارکس نے زیادہ مکمل اور سائنٹفک انداز میں پیش کیا ـــــــــ یہ دراصل اس رجحان کی تکمیل ہے جس کی باقاعدہ اور علمی طور پر ڈارون سے ابتدار ہوئی تھی اور پھر وہ اس خلا کو پر کرتا ہے جو اس سابق فلسفہ میں باقی رہ گیا تھا۔ اس بات کو اگر دوسرے لفظوں میں کہنا چاہیں تو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ یورپ میں سائنس اور کلیسا کے تصادم کے بعد انسان نے اپنے خدا سے جو بغادت کی تھی وہ ابھی تک صرف ایک پاؤں پر کھڑی تھی، جو ڈارون نے مہیا کیا تھا سوشلسٹ فلسفہ اس بے خدا تہذیب کا دوسرا پاؤں ہے جو مارکس نے دریافت کیا ہے ۔ زندگی کے دو اہم ترین مسئلے ہیں جن کے بارہ میں کوئی رائے قائم کئے بغیر ہم ایک قدم بھی نہیں چل سکتے۔ ایک یہ کہ انسان کس طرح وجود میں آیا۔ دوسرے یہ کہ انسان کے لئے قانون زندگی کیا ہو۔ پہلے سوال کا مطلب اپنے وجود کی تشریح کرنا ہے اور دوسرے سوال کا مطلب اپنے لئے صحیح راہ عمل کا تعین کرنا۔ ایک کا تعلق حیاتیاتی سائنس سے ہے اور دوسرے کا تعلق سماجی فلسفہ سے ۔ یہ دونوں سوالات بالکل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ انسانی وجود کی ایک تشریح لازمی طور پر اس کے مطابق ایک طرز زندگی کا مطالبہ کرتی ہے۔ اور جب بھی کوئی طرز زندگی متعین کیا جاتا ہے تو یقینی طور پر اس کے پیچھے اپنے آغاز و انجام کا ایک تصور ہوتا ہے قدیم ترین زمانہ سے انسان یہ مانتا چلا آرہا ہے کہ زمین و آسمان اور تمام موجودات کا خالق ایک فوق الفطری وجود ہے، اسی نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اسی کو حق ہے کہ انسانی زندگی کے لئے احکام و ہدایات دے اور اس کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page