سوشلزم کا فلسفہ
Urdu book, p. 121
By Maulana Wahiduddin Khan
صحیح راہ عمل بتائے۔ پھیلی تاریخ میں جتنی تہذیبیں ملتی ہیں ان میں بیشتر تہذیبیں خدا کو تسلیم کرنے والی ہیں نہ کہ اس کا انکار کرنے والی۔ اس تصور کے مطابق قانون کا ماخذ بھی اسی ذات کو ہونا چاہئے جس کا حکم ساری کائنات پر چل رہا ہے اور جس نے انسانوں کو وجود بخشا ہے ' جو ان کی زندگی کا سرچشمہ ہے۔ مگر ایک خدا اور اس کے قانون۔ ایسا قانون جو کسی حال میں بدلا نہیں جا سکتا۔ کو ماننے میں چونکہ انسان کی خواہشوں پر ضرب پڑتی ہے ' اپنی انانیت اور اقتدار کے لئے گنجائش باقی نہیں رہتی، اس لئے عام طور پر ایسا ہوا ہے کہ ان قوموں نے اصل عقیدے کے ساتھ شرک کو ملا لیا۔ انھوں نے خدا کو مانتے ہوئے اس کے کچھ ایسے ہم سر اور شریک گھڑے جو خود بھی امرونہی کے مجاز تھے ' اور ان خود ساختہ شریکوں کے نام پر وہ سب کچھ جائز کر لیا جس کو ان کا نفس جائز کرنا چاہتا تھا۔ اس طرح قدیم زمانہ کا انسان خدا کی ماننے کو چھوڑ کر خود مختار بننے اور خدا کے احکام کی پیروی کے بجائے اپنی من مانی کارروائی کرنے کے لئے شرک کا سہارا لیتا رہا ہے۔ ایک طرف اس کی خواہشیں تھیں اور دوسری طرف خدا کا تصور وہ اپنی خواہشوں کو چھوڑنا نہیں چاہتا تھا اور یہ جرات بھی نہیں کر سکتا تھا کہ خدا کو ماننے سے انکار کر دے ' اس لئے اس نے شرک کا طریقہ ایجاد کیا اور جو کچھ وہ خدا کی اجازت سے نہیں کر سکتا تھا ' اس کو خدا کے شریکوں کے نام پر اپنے لئے جائز کر لیا۔ خدا سے بغاووت کی نئی بنیاد یہ صورت حال قدیم ترین زمانے سے چلی آ رہی تھی۔ مگر یورپ میں ستر ھویں صدی عیسوی میں سائنس اور کلیسا کے درمیان جو تصادم ہوا، اس کے بعد تاریخ میں پہلی بار الحاد نے ایک منظم تحریک کی شکل اختیار کی۔ انسان نے یہ سوچا کہ دوسرے خدا کے وجود ہی کا انکار کر دیے۔ مطلب وہ تحریک کے بجائے براہ راست خدا کی نفی سے اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتا تھا۔ اس نے چاہا کہ قانون کا ماخذ خدا کے بجائے خود انسان کی طرف منتقل ہو جائے تاکہ نفس پرستی کے لئے شریکوں کا واسطہ اختیار کرنے کی بھی ضرورت نہ رہے، بلکہ وہ خود اپنے نفس کی اجازت سے جو چاہے کر سکے۔ اس زمانہ میں پادریوں کا زبردست اثر تھا۔ اور سارے یورپ میں نہ صرف یہ کہ وہ مذہب کے ٹھیکیدار تھے بلکہ اٹھلی سے لے کر سکاٹ لینڈ تک تمام ملکوں کی سیاست پر بھی اُن کا زبردست اثر تھا۔ ان کا یہ اثر حقیقی مذہبیت اور خدا پرستی کی بنا پر نہیں تھا بلکہ مذہب سے بے تعلقی کی بنا پر تھا۔ عیسائی عوام سخت جہالت اور بے عملی میں مبتلا تھے، مگر یہ پادری ان کی بے عملی اور جہالت کو ختم کرنے کے بجائے اس کو باقی رکھ کر باقاعدہ اس کی تجارت کرتے تھے۔ وہ عیسائیوں کو اصل مذہبی تعلیمات پر عمل کرانا نہیں چاہتے تھے ' کیونکہ اس کے معنی یہ تھے کہ وہ خدا اور مسیح کی طرف متوجہ ہو جائیں۔ اس کے بجائے وہ انھیں بے عملی کی حالت میں رکھنا چاہتے تھے تاکہ بے عملی کی تلافی اور آخرت میں خدا کی مغفرت حاصل کرنے کے لئے وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader