Urdu book · سوشلزم اور اسلام

سوشلزم کا فلسفہ

Urdu book, p. 122

By Maulana Wahiduddin Khan

پا پاؤں کی دکان سے اس کو سونے چاندی کے عوض خرید رہے تھے۔ اس کاروبار کے ذریعہ کلیسا کو زبردست آمدنی تھی اور وہ لوگ بادشاہوں کی مانند زندگی گزارتے تھے۔ ایسے حالات میں جب یورپ میں عقلیت کا آغاز ہوا، نئے نظر یات کی وجہ سے تقلید کی زنجیریں ٹوٹنے لگیں، پادریوں کے پھیلائے ہوئے اوہام و خرافات پر تنقید کی گئی اور بے سمجھے بوجھے ان پر ایمان لانے سے انکار کیا جانے لگا، تو مذہبی حلقوں میں قیامت برپا ہوگئی، کیونکہ اس طرح کی عقلیت اور آزادی کے پیدا ہونے کے معنی یہ تھے کہ پا پاتی نظام کی غیر معمولی اہمیت کا طلسم ٹوٹ جائے اور علم اور عمل کی ایک نئی شاہراہ کھل جانے کی وجہ سے ان کا اقتدار باقی نہ رہے۔ چنانچہ ارباب کلیسا نے ان مفکروں اور سائنس دانوں کے کفر کا فتوئی دے دیا جو ان نئے نظریات کو پیش کرنے کے ذمہ دار تھے۔ اور دینِ مسیح کی حفاظت کے نام پر ان کا خون بہانے اور ان کی ملکیتیں ضبط کرنے کی اجازت دے دی۔ احتساب کی مذہبی عدالتیں قائم ہوئیں جو پوپ کے حکم کے مطابق ” اُن ملاحدہ اور مرتدین کو سزا دیں جو گھروں، تہہ خانوں، جنگلوں، کھیتوں، غاروں اور شہروں میں پھیلے ہوئے ہیں“۔ ان عدالتوں نے نہایت بے دردی کے ساتھ سزائیں دینا شروع کیں۔ اندازہ کیا گیا ہے کہ تقریباً تین لاکھ جانیں اس احتساب کی نذر ہوگئیں، جن میں ۳۲ ہزار آدمیوں کو زندہ جلا دیا گیا۔ ان سزا پانے والوں میں مئیت و طبیعیات کے مشہور عالم برونو (Brunoe) اور گلیلیو (Gallilio) جیسے لوگ بھی شامل ہیں۔ کلیسا کے ان وحشیانہ مظالم کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس وقت کے اہلِ علم طبقہ کو مذہب سے ایک ضد سی پیدا ہوگئی۔ انھوں نے کلیسا کا زور توڑنے کے لئے خدا ہی کا انکار کر دیا تا کہ وہ اصل چیز باقی نہ رہے جس پر کلیسا کا پورا وجود قائم ہے۔ سائنس بنام کلیسا کا اختلاف، سائنس بنام خدا کا اختلاف بن گیا۔ وہ بغاوت جو ابتداء ایک بگڑے ہوئے مذہبی طبقہ کے غلط اقتدار سے رہائی پانے کے لئے شروع ہوئی تھی وہ خود مالکِ کائنات کے اقتدار سے بغاوت بلکہ اس کے وجود سے انکار تک جاپہنچی، اس عمل کے بعد قدرتی طور پر انھیں زندگی کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page