Urdu book · سوشلزم اور اسلام

سوشلزم کا فلسفہ

Urdu book, p. 123

By Maulana Wahiduddin Khan

گاڑی چلانے کے لئے دو چیزوں کی ضرورت تھی، ایک یہ کہ اگر خدا کا کوئی وجود نہیں ہے تو خود انسان کیسے وجود میں آگیا؟ دوسرے یہ کہ انسانوں کی یہ بھیڑ جس کا اب کوئی آقا اور مالک نہیں ہے ‘ اس کو راہِ عمل کون بتائے۔ زندگی کے لئے قانون کا ماخذ کیا ہو؟ پہلے سوال کا جواب چارلس ڈارون (۱۸۸۲-۱۸۰۹) نے دیا اور دوسرے کا جواب کارل مارکس (۱۸۸۳-۱۸۱۸) نے۔ ڈارون کا جواب یورپ کی ابھرتی ہوئی قوموں کی خواہش کے عین مطابق تھا اس لئے وہ فوراً قبول کر لیا گیا۔ مگر مارکس کے جواب کو ماننے میں بر سر اقتدار طبقہ کو اپنی موت نظر آتی تھی اس لئے وہ ترقی یافتہ یورپ میں پھیل نہ سکا ۔ اگرچہ ذہنی اعتبار سے اس نے جدید دنیا کے بڑے حصہ کو متاثر کیا ہے۔ مارکسی نظریہ اسلام کی ضد ہے پہلے سوال کا جواب یہ دیا گیا تھا کہ انسان ایک مادی وجود ہے۔ جس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ایک بیج اگتا ہے، درخت بنتا ہے، پھل پھول لاتا ہے‘ اور یہ سارے مراحل ‘ زمین ، ہوا ، پانی اور گرمی کے عمل سے خود بخود انجام پاتے ہیں۔ اسی طرح انسان بھی کسی وقت ایک حقیر کیڑا تھا جو پانی سے پیدا ہوا ، اور پھر تاریخ کے لمبے زمانوں میں مختلف جانداروں کی شکل اختیار کرتا ہوا بالآخر بندر بنا اور بندر سے انسان تیار ہو گیا۔ گویا یہ انسان جو دماغی اور جسمانی قوتوں سے بھر پور آج ہم کو نظر آتا ہے ‘ اس کو مکمل صورت میں بنا کر کھڑا کر دینے کا کام کسی خالق نے نہیں کیا ہے بلکہ زندگی کے ابتدائی کیڑے پر ماحول کے مسلسل عمل نے خود ہی اس کو اس مقام تک پہنچایا ہے۔ مارکس نے اس مصرعۂ اول پر اپنا مصرعۂ ثانی لگایا ، اس نے کہا کہ جس طرح انسان ایک لیے مادی عمل کے ذریعہ خود بخود انسان بن گیا ہے اور اس میں کسی فوق الفطری قوت کی کار فرمائی کا کوئی دخل نہیں ہے، ٹھیک اسی طرح زندگی کا قانون بھی کہیں باہر سے نہیں آئے گا۔ انسان کو ایک کامیاب زندگی حاصل کرنے کے لئے کسی خارجی رہنمائی کی ضرورت نہیں ، کیونکہ یہ کام بھی مادی عمل کے ذریعہ مسلسل انجام پا رہا ہے۔ جو لوگ خارج سے کسی دریافت کردہ اصول کو انسانی زندگی میں رائج کرنا چاہتے ہیں، مارکس ان کو ” خیالی فلسفی “ کا لقب دیتا ہے کیونکہ اس کے نزدیک در حقیقت ایسے کسی خارجی اصول کا وجود ہی نہیں ہے ۔ اس کے نزدیک قانون کا ماخذ خود انسان کی اپنی زندگی ہے‘ نہ کہ کوئی بیرونی حقیقت ۔ انسان کو اس کے مادی ماحول نے ایک حقیر کیڑے سے مکمل انسان تک پہلا چکا تھا ، اب اس کا معاشی ماحول اس کو زندگی کے صحیح ترین نظام کی طرف لے جا رہا ہے ۔ ڈارون نے حیاتیاتی ارتقا کی دنیا میں جو مقام مادہ کو دیا تھا مارکس نے سماجی ارتقا کی دنیا میں وہی مقام معاشی فراک دو سائل کو دیا۔ اس نے کہا کہ جس طرح مادہ کے ساتھ ایک لمبے تاریخی عمل نے کیڑے کو انسان بنا دیا ہے ‘ ٹھیک اسی طرح ضروریات زندگی حاصل کرنے کے سلسلے میں انسان کی جدوجہد اور معاشی ذرائع و وسائل کی تبدیلیاں یہی وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page