سوشلزم کا فلسفہ
Urdu book, p. 124
By Maulana Wahiduddin Khan
بنیادی عوامل ہیں جو انسانی زندگی کو مسلسل ارتقا کی طرف لے جا رہی ہیں۔ زندہ رہنے کے لئے انسان کو جن چیزوں کی ضرورت ہے ان کو حاصل کرنے کے دوران میں بالکل لازمی قانون کے تحت ایک اقتصادی دور وجود میں آتا ہے جو کچھ دنوں کام کرنے کے بعد ٹوٹ جاتا ہے اور اس کے بطن سے دوسرا ایک زیادہ ترقی یافتہ دور پیدا ہوتا ہے‘ پھر یہ دور بھی ختم ہو کر ایک تیسرے اور زیادہ ترقی یافتہ دور کی پیدائش کا سبب بنتا ہے‘ اس طرح عہد بہ عہد ترقیوں کا یہ سلسلہ چلا جا رہا ہے۔ یہی اقتصادی ادوار گویا وہ سیڑھیاں ہیں جو انسان کو بہتر مستقبل کی طرف لے جا رہی ہیں اور انھیں کے ذریعہ انسانیت کی تاریخ معلوم کی جا سکتی ہے۔ اس کی تشریح کرتے ہوئے مارکس لکھتا ہے: ”محنت کے اوزار بنانا اور استعمال کرنا اگرچہ کسی حد تک جانوروں کی بعض قسموں میں بھی پایا جاتا ہے‘ مگر خاص طور پر انسان کے پیداواری عمل کی یہ امتیازی خصوصیت ہے‘ اسی لئے فرینکلن (Benjamin Franclin) نے انسان کی تعریف ”اوزار بنانے والے جانور“ کے الفاظ سے کی ہے۔ گزرے ہوئے زمانے کے اوزار سماج کے نا پیدا اقتصادی ڈھانچوں کی تحقیق کے سلسلہ میں اتنی ہی اہمیت رکھتے ہیں جتنی کہ خنجر ہڈیاں (Fossil bones) جانوروں کی ناپید قسموں کو جاننے کے لئے سماج کے مختلف اقتصادی ادوار کا باہمی امتیاز اس زمانہ کی بنی ہوئی اشیاء سے نہیں معلوم ہوتا بلکہ اس کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ کن اوزار کی مدد سے اور کس طریقہ سے بنائی گئی ہیں۔ آلات محنت نہ صرف ترقی کے اس درجہ کی نشاندہی کرتے ہیں جہاں پر انسانی محنت پہونچی ہے بلکہ انھیں سے ان سماجی حالات کا بھی پتہ چلتا ہے جن کے تحت وہ محنت کی گئی ہے۔“ ارتقا کا یہ سلسلہ آغاز انسانیت سے جاری ہے اور اب اس عمل کی تکمیل کے دن بہت قریب آگئے ہیں۔ قدیم غلام سماج اور جاگیرداری سماج کے بعد اب جو سرمایہ دارانہ سماج آیا ہے اس نے انسانی ارتقا کے سفر کو تکمیل کے بہت قریب پہنچا دیا ہے۔ اب اس کے بعد بہت جلد یہ ہوگا کہ انسان اپنے آخری ارتقائی دور میں بہو پہنچ جائے گا اور یہی اس کی آخری کامیابی ہے۔ مارکس نے ۱۸۵۹ء میں اپنی مشہور کتاب ”معاشییات پر ایک تنقیدی تحقیق“ کے دیباچہ میں اپنے اس نظریہ کا خلاصہ مندرجہ ذیل الفاظ میں پیش کیا تھا : ”....... میں اپنے مطالعہ سے اس نتیجہ پر پہونچا ہوں کہ قانونی تعلقات نیز ریاست کی مختلف شکلیں نہ تو خود ان کے اپنے مطالعہ سے سمجھ میں آسکتی ہیں اور نہ انسانی دماغ کی مفروضہ عام ترقی کے بل پر ان کو سمجھا جاسکتا ہے‘

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader