Urdu book · سوشلزم اور اسلام

سوشلزم کا فلسفہ

Urdu book, p. 125

By Maulana Wahiduddin Khan

بلکہ ان کی جڑیں زندگی کے مادی حالات میں مضبوط جمی ہوئی ہوتی ہیں جن کے مجموعہ کو ہیگل نے اٹھارویں صدی کے برطانوی اور فرانسیسی مفکروں کی تقلید میں "مدنی سماج" (Civil society) کے نام سے اکٹھا کر دیا ہے۔ اس مدنی سماج کی تشریعی ساخت اقتصادیات میں پائی جاتی ہے، اقتصادیات کا یہ مطالعہ جو کہ میں نے پیرس میں شروع کیا تھا، بروڈلز میں بھی اس کو جاری رکھا ۔ ۔ ۔ اس مطالعہ سے جو نتیجہ میں نے اخذ کیا اور ایک بار اخذ کر لینے کے بعد جس کو میں نے مزید مطالعہ کے لئے رہ نما کی حیثیت سے اپنے سامنے رکھا اختصار کے ساتھ اس کو اس طرح پیش کیا جا سکتا ہے ـــــــــ سماجی طور پر ذرائع حیات کی پیداوار کے دوران میں لوگ لازمی طور پر ایک مخصوص قسم کے باہمی تعلقات میں وابستہ ہو جاتے ہیں اور یہ وابستگی ان کے اختیار سے باہر کی چیز ہوتی ہے۔ یہ پیداواری تعلقات ان کی مادی پیداواری طاقتوں کے ارتقاء کی مخصوص منزل سے ہم آہنگ ہوتے ہیں۔ ان پیداواری تعلقات کا مجموعہ ہی سماج کے اقتصادی ڈھانچہ کی تشکیل کرتا ہے، یہی ڈھانچہ دراصل وہ بنیاد ہے جس پر قانونی اور سیاسی عمارت تعمیر ہوتی ہے اور جس کے مطابق سماجی شعور کی مخصوص شکلیں نمودار ہوتی ہیں۔ زندگی کی مادی ضروریات حاصل کرنے کے طریقے زندگی کے تمام سماجی، سیاسی اور ذہنی عمل کی شکل معین کرتے ہیں۔ انسان کا شعور اس کی ہستی کو متعین نہیں کرتا۔ بلکہ اس کے برعکس یہ اس کی ہستی ہے جو اس کے شعور کو متعین کرتی ہے۔ اپنی ترقی کے ایک خاص مقام پر پہنچ کر سماج کی مادی پیداواری طاقتیں اپنے زمانہ کے پیداواری تعلقات کی ضد بن جاتی ہیں۔ بالفاظ دیگر ملکیت کے ان تعلقات سے ٹکرا جاتی ہیں جن کے اندر رہ کر وہ پہلے کام کرتی رہی ہیں۔ پیداواری طاقتوں کے مزید ارتقاء کا ذریعہ بنے رہنے کی جگہ یہ تعلقات ان طاقتوں کے لئے بیڑیاں بن جاتے ہیں۔ تب انقلابی دور کا آغاز ہوتا ہے۔ اقتصادی بنیادوں کے بدلتے ہی کم و بیش سماج کا پورا ڈھانچہ نہایت تیزی سے تبدیل ہو جاتا ہے۔ ان تغیرات پر غور کرتے وقت پیداوار کے اقتصادی حالات میں مادی تبدیلیوں کے درمیان ـــــــــ جن کا تعین پوری صحت کے ساتھ کیا جا سکتا ہے ـــــــــ اور ات قانونی، سیاسی، مذہبی، جمالیاتی، فلسفیانہ ، مختصر یہ کہ نظریاتی شکلوں کے درمیان جن سے کہ انسان اس جدوجہد کا شعور پاتا ہے اور یہ جنگ لڑتا ہے ہمیشہ امتیاز کرنا ضروری ہے۔ جس طرح کسی شخص کے بارہ میں ہماری رائے کی بنیاد یہ نہیں ہوتی کہ وہ خود اپنے آپ کو کیا سمجھتا ہے ، اسی طرح ہم کسی عہد کے تغیر کو تو اس زمانہ کے شعور سے نہیں سمجھ سکتے ' ان کا یہ شعور مادی زندگی کے اضداد کا مطالعہ کر کے ہی سمجھ میں آ سکتا ہے۔ اس جدوجہد پر غور کرنے سے جو کہ سماج کی پیداواری طاقتوں اور پیداواری تعلقات کے درمیان موجود ہے ' تمام پیدا آور قوتوں کی لینی گنجائش کے مطابق ترقی پا جانے سے پہلے کبھی کوئی سماجی نظام ناپید نہیں ہوا ' اور اسی طرح پیدا وار کے جدید اعلی تعلقات بھی اس وقت تک وجود میں نہیں آتے جب تک کہ وہ تمام مادی حالات جو کہ اس کے وجود کے لئے نہایت ضروری ہیں ' خود پچھلے سماج کے بطن میں اچھی طرح پرورش نہ پا چکے ہوں اس لئے نوع انسانی اسی فرض کو اپنے ذمہ لیتی ہے جسے وہ حل کر سکتی ہے، کیونکہ اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page