سوشلزم کا فلسفہ
Urdu book, p. 126
By Maulana Wahiduddin Khan
مسئلہ کو زیادہ غور سے دیکھا جائے تو ہم پائیں گے کہ خود فرض اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب کہ اس کے حل کے لئے ضروری اور حالات پہلے سے موجود ہوں یا کم از کم ترتیب و تشکیل کی حالت میں ہوں۔ سادہ الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ پیدا وار کے تمام تاریخی طریقے یعنی قدیم ایشیائی جاگیرداری اور موجودہ بورژوا پیداواری طریقے ، یہ سب سماج کے اقتصادی نظام کی ترقی کے دور ہیں۔ بورژوا پیداواری تعلقات پیداوار کے سماجی عمل میں آخری مخاصم تعلقات ہیں، متخاصم انفرادی معنوں میں نہیں بلکہ ان تعلقات کی ایسی خصوصیتیں جو کہ سماجی زندگی کے حالات کی پیدا وار ہیں۔ لیکن یہ پیداواری طاقتیں بورژوا سماج کے بطن میں پرورش پا رہی ہیں، ایک وقت ان مادی حالات کو بھی وجود میں لارہی ہیں جن کے ذریعہ یہ کشاکش دور ہوجائے گی اور اس طرح اس سماجی نظام کے ساتھ انسانی سماج کا ماقبل تاریخ دور (Pre-historic stage) بھی ختم ہو جائے گا"۔1 اس مارکسی فلسفہ کا خلاصہ یہ ہے کہ صنعت و زراعت وغیرہ جن سے انسان اپنے لئے کھانا کپڑا اور دوسری چیزیں حاصل کرتا ہے، ان کی حیثیت محض ضروریات زندگی حاصل کرنے کے ذریعہ کی نہیں ہے بلکہ انہی سے انسانی شعور کی تربیت ہوتی ہے، اور یہی زندگی کے تمام شعبوں کو ایک مخصوص شکل عطا کرتے ہیں۔ پیداوار حاصل کرنے کے جو ذرائع ہیں وہ اپنی پیدا وار خود بخود انسان کی طرف منتقل نہیں کر دیتے بلکہ کچھ اوزار ہوتے ہیں جن کو لے کر آدمی ان پر اپنا عمل کرتا ہے۔ یہ اوزار ہمیشہ ایک قسم کے نہیں رہتے بلکہ بدلتے رہتے ہیں یہی تبدیلی وہ بنیادی چیز ہے جو خود سماج کو بھی بدل دیتی ہے۔ کسی زمانہ میں انسان پتھر کے اوزار سے کام لیتا تھا، اس کے بعد مختلف تبدیلیاں ہوتی رہیں ، یہاں تک کہ اب بڑی بڑی مشینوں سے کام لیا جاتا ہے۔ پیدا وار حاصل کرنے کے طریقہ میں یہ تبدیلیاں ہی دراصل وہ چیزیں ہیں، جو انسانی زندگی کو بھی تبدیل کرتی رہتی ہیں اور سماج کو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف لے جاتی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں پیدا وار حاصل کرنے کی تاریخ خود انسانی سماج کے ارتقا کی تاریخ ہے۔ جدید مشینی انقلاب سے پہلے یہ تھا کہ انسان چھوٹے چھوٹے اوزار سے کام لیتا تھا، تھوڑے سرمایے سے انفرادی طور پر الگ الگ کاروبار کرتا تھا، اس صورتِ حال نے انفرادی ملکیت کا تصور پیدا کیا کیونکہ اس وقت یہ واضح طور پر یہ معلوم ہو سکتا تھا کہ کون سی چیز کس کی ہے اور کس نے کسی چیز کی تیاری میں کتنی محنت صرف کی ہے۔ اسی انفرادی قبضہ سے وہ تمام تصورات پیدا ہوئے جن کو مذہب اور اخلاق کہا جاتا ہے یعنی خدا اور تقدیر پر یقین، تاکہ جو کچھ جس کے پاس ہے، وہ اسی کا سمجھا جائے، ایک دوسرے کے مال و املاک کا احترام تاکہ ایک شخص کی دولت دوسرا چھینے کی کوشش

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader