سوشلزم کا فلسفہ
Urdu book, p. 127
By Maulana Wahiduddin Khan
نہ کرے۔ شادی، خاندان اور عزیز و اقارب کے حقوق کا تصور تاکہ ایک مرتبہ جس کے پاس کچھ آگیا ہے وہ وراثت اور حقوق کی ادائیگی کے نام سے اسی خاندان میں باقی رہے۔ گویا یہ تمام اخلاقی تصورات جو پیدا ہوئے وہ بذاتِ خود کوئی چیز نہ تھے اور نہ خارج سے کسی نے ان کو اصول کے طور پر بھیجا تھا۔ یہ انسانی ذہن میں ان معاشی حالات کا عکس تھے جو بالفعل سماج کے اندر موجود تھے اور جن سے صرف مالکوں کے طبقہ کا فائدہ ہو سکتا تھا۔ سماج کے اندر دو طبقات 'مالک' اور غیر مالک کی تقسیم اور مالک کا یہ چاہنا کہ جو کچھ اسے مل گیا ہے وہ اسی کے پاس رہے یہی دہ حالات تھے جنھوں نے مذہب و اخلاق کو جنم دیا۔ جو جان و مال کے احترام کا سبق دیتے ہیں اور اسی نے قانون ریاست کو وجود دیا جن کا کام یہ ہے کہ پولیس اور عدالت کے ذریعہ ملکیتی طبقہ کا تحفظ کریں۔ یہی مالک اور غیر مالک کی تقسیم وہ بنیادی خرابی ہے جو انسانیت کو نامعلوم زمانہ سے جنگ، بدامنی اور افلاس میں مبتلا کئے ہوئے ہے یہی تمام مصیبتوں کی جڑ ہے۔ لیکن مشینی انقلاب نے ان مادی حالات کو بدل دیا ہے جن میں انسان اب تک جکڑا ہوا تھا۔ اس انقلاب نے محدود ذرائع پیداوار کو ترقی دے کر اس کو بڑی پیدا آور قوتوں میں تبدیل کر دیا۔ اب کسی چیز کو تیار کرنے میں صرف ایک شخص کا ہاتھ کام نہیں کرتا، بلکہ مشینوں کی مدد سے بے شمار آدمی مل کر ایک چیز تیار کرتے ہیں۔ جولا ہے کے کرگھے اور چرغے کی جگہ سوت کاتنے اور کپڑا بننے کی بڑی بڑی مشینوں نے لے لی، لوہار کے بھتوزے کی جگہ بھاپ سے چلنے والی مشینی ہتھوڑے استعمال ہونے لگے۔ کاری گروں کی چھوٹی چھوٹی دکانوں کے بدلے بڑی بڑی فیکٹریاں قائم ہوگئیں جہاں ہزاروں مزدوروں کا ایک ساتھ مل کر کام کرنا ضروری ہو گیا۔ ذرائع پیدا وار کی طرح خود پیدا وار میں بھی نمایاں تبدیلی ہوئی۔ ایک شخص سارے کام کرنے کی جگہ صرف ایک ہی مخصوص کام کرنے لگا۔ اب جو جنس مثلاً 'سوت'، 'کپڑا'، اور دھات کی چیزیں فیکٹری سے بن کر نکلتی ہیں وہ مزدوروں کی مشترک محنت کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ کیونکہ انھیں تیار کئے جانے میں مختلف مزدوروں کے ہاتھ سے گزرنا پڑتا ہے۔ ان اجناس کے بارہ میں اب کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کو تنہا اسی نے بنایا ہے، اس طرح اس انقلاب نے پیداوار کو انفرادی نوعیت سے نکال کر اجتماعی نوعیت دے دی ہے۔ دوسری طرف اس انقلاب نے سماج کو ایک بہت بڑے تضاد میں مبتلا کر دیا ہے، اب تک یہ تھا کہ آلاتِ محنت کا مالک ہی پیداوار کا مالک ہونا تھا، کیونکہ وہ اس کی محنت کا حاصل ہوتا تھا لیکن نئے حالات میں بھی آلات محنت کا مالک اس کے حاصل کا مالک بنا ہوا ہے حالانکہ اب وہ اس کی محنت کا حاصل نہیں رہا۔ بلکہ دوسروں کی محنت کا حاصل بن گیا ہے۔ پیداوار اپنی حقیقت کے اعتبار سے اجتماعی ہو چکی ہے مگر ملکیت کا وہی انفرادی طریقہ اب بھی رائج ہے جو پہلے تھا۔ پیدا وار اور اس کی تقسیم کے اسی تضاد میں انسانیت کے تمام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader