Urdu book · سوشلزم اور اسلام

سوشلزم کا فلسفہ

Urdu book, p. 128

By Maulana Wahiduddin Khan

مسائل کا راز چھپا ہوا ہے۔ مشینی ترقی سے یہ تضاد بڑھتا جائے گا اور بالآخر یہ ہوگا کہ محنت کش طبقہ جو پیدا وار تیار کرتا ہے مگر پیداوار کا مالک نہیں ہے وہ سرمایہ دار طبقہ کے خلاف بغاوت کر دے گا جو پیدا دار کا مالک بن گیا ہے حالانکہ پیداوار کو تیار کرنے میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ تاریخ میں اس سے پہلے بھی اس طرح کے تضادات ظاہر ہوتے رہے ہیں مگر اس سے پہلے یہ تضاد کبھی اتنا واضح اور نمایاں نہیں ہوا تھا۔ اس بغاوت کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ذرائع پیدا وار افراد کے ہاتھ سے نکل کر ان لوگوں کے قبضہ میں چلے جائیں گے جو ان پر محنت کرتے ہیں، جو ان کے حقیقی مالک ہیں۔ اس طرح ذرائع پیدا وار پر سماج کا قبضہ ہو جائے گا۔ اس تبدیلی سے وہ تمام اصول اور قوانین بھی بدل جائیں گے جو یکملتی طبقہ کی حفاظت کے لئے پچھلی تاریخ میں گھڑے جاتے رہے ہیں۔ حتیٰ کہ پولیس اور فوج بھی ختم ہو جائے گی جو صرف اس لئے وجود میں آئی تھی کہ ملکتی طبقہ کے مفاد کا تحفظ کرے۔ جب سب مالک ہو جائیں گے تو سب کی حیثیت یکساں ہوگی ،پھر کون کس کے خلاف تحفظ چاہے گا؟ کون کس پر زیادتی کرے گا۔ پچھلی تاریخ میں بھی اس طرح کی طبقاتی جنگیں ہوتی رہی ہیں، جو انسان کو حقیقت سے قریب کرتی رہی ہیں۔ اب یہ جنگ آخری طور پر انسان کو حقیقت تک پہنچا دے گی۔ پہلے آدمی بالکل الگ الگ اپنی ذاتی محنت سے کام کرتا تھا، پھر انقلاب آیا اور ابتدائی تعاون کی شکلیں پیدا ہوئیں۔ اس کے بعد مزید تبدیلی ہوئی اور کارخانہ داری شروع ہوئی اور اب انسان بڑے پیمانہ کی انڈسٹری کے آخری دور میں پہونچ گیا ہے۔ اس آخری انقلاب نے یہ امکان پیدا کر دیا ہے کہ پیدا دار حاصل کرنے کے ذرائع انفرادی قبضہ سے نکل کر سارے سماج کے قبضہ میں چلے جائیں۔ اس طرح وہ چھین جھپٹ خود بخود ختم ہو جائے گی جو مالک اور غیر مالک کے درمیان تھی۔ قانون کے وہ مظالم بھی ختم ہو جائیں گے جو ملکیتی طبقہ کی طرف سے محروم طبقہ پر کئے جارہے تھے۔ غرض اس معاشی نظام کی غلامی ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گی جو سماج کو دو طبقوں میں تقسیم کئے ہوئے تھا، جو ساری مصیبتوں کا اصل سبب تھا۔ انسان مستقل کشاکش سے نکل کر ابدی آرام کی زندگی میں داخل ہو جائے گا۔ انفرادی ملکیت کے طریقے نے جو مادی ماحول پیدا کیا تھا اس میں کچھ لوگوں کو اپنی ملکیت کی حفاظت کرنی ہوتی تھی ،اس لئے خود غرضی کا تصور پیدا ہوتا تھا۔ کچھ طاقت ور تھے اور کچھ کمزور، اس لئے بے بسی اور محرومی کا تصور پیدا ہوتا تھا۔ ایک طرف ظلم تھا اور دوسری طرف مظلومیت‘ اس لئے چھین جھپٹ اور کش کش پیدا ہوتی تھی۔ اجتماعی ملکیت کے نظام میں یہ مادی ماحول بالکل بدل جائے گا اس لئے اس قسم کے تمام تصورات کی پیدائش بھی ختم ہو جائے گی۔ انسان باہمی تعاون، اور سکون واطمینان کی ایک نئی فضا میں سانس لینے لگے گا۔ مارکس کا یہ نظریہ جو ہم نے اوپر بیان کیا ، اصلا صداقت کے بعض اجزاء سے خالی نہیں ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page