Urdu book · سوشلزم اور اسلام

سوشلزم کا فلسفہ

Urdu book, p. 129

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ واقعہ ہے کہ انسان اپنی معاشی زندگی اور وقت کے حالات سے متاثر ہوتا ہے اور بعض اوقات اپنے ماحول کے خلاف سوچنا اس کے لئے دشوار ہو جاتا ہے۔ اسی طرح مختلف انسانوں اور مختلف گردہوں کے مفاد میں بعض اوقات تضاد پیدا ہو جاتا ہے اور وہ باہم ٹکرا جاتے ہیں۔ یہ باتیں کوئی نئی اور انو کھے نہیں ہیں۔ اگر مارکس صرف اسی قدر کہتا تو اس میں کسی کو اختلاف کی گنجائش نہیں تھی۔ مگر جو چیز محض انسان کی عادت یا اتفاقی حالات سے تعلق رکھتی ہے، اسی کو وہ انسان کی اصل حیثیت قرار دیتا ہے اور اسی کی روشنی میں مسئلہ انسان کا مطالعہ شروع کر دیتا ہے۔ وہ ان واقعات کو نفسیات کا موضوع نہیں بنانا بلکہ فلسفہ کا موضوع بناتا ہے ۔ وہ انھیں معمولی چیزوں کو لے کر ان سوالات کا جواب دینا شروع کر دیتا ہے کہ انسان کیا ہے، پوری کائنات کے ساتھ اس کا کیا تعلق ہے، اس کے لئے قانونِ زندگی کا ماخذ کیا ہونا چاہیے، انسانیت کی تکمیل اور آخری کامیابی حاصل کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے جس کی بنا پر ہم مارکسزم کو غلط سمجھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ مارکسی تجزیہ کی بہت سی چیزیں جو بظاہر جزئی صداقتوں کی حامل نظر آتی ہیں، وہ بھی مارکسی فلسفہ کے چوکھٹے میں بے معنی ہو جاتی ہیں اور اپنی اصل حیثیت میں ان کا کوئی وزن باقی نہیں رہتا۔ پہلا اختلاف اس حیثیت سے دیکھئے تو یہ نظریہ کھلا ہوا اسلامی نظریہ کی ضد ہے اس نظریہ کو ماننے کے معنی لازمی طور پر یہ ہیں کہ : ۱۔ انبیائے علیہم السلام کی رہنمائی میں اٹھنے والی تحریکیں صرف معاشی محرکات کا نتیجہ قرار پائیں ، گویا ان کی نوعیت یہ نہیں تھی کہ وہ خدا کے بندوں کو خدا کی مرضی کا علم دینا چاہتی تھیں جس علم کی معرفت اور اس کے عمل پر انسانی مستقبل کا انحصار ہے، بلکہ یہ تمام تحریکیں وقت کے معاشی حالات کی پیدا وار تھیں۔ ان نفوس قدسیہ نے اپنے وقت کے غلط کار لوگوں سے جو مقابلہ کیا اس کی حیثیت حق و باطل کی جنگ کی نہیں تھی بلکہ یہ تاریخ کی ان طبقاتی لڑائیوں کے سلسلہ کی کڑیاں تھیں جو انسانی سماج کی ابتدا سے زمین پر چلی آرہی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ خدا کا پیغام پہنچانے کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ محض اپنے معاشی مفاد اور خود غرضانہ مقاصد کے حصول کی کوشش تھیں ۔ وقت کے حقوق یافتہ طبقہ نے اپنے ذاتی مقاصد کے حصول کے لئے وحی ورسالت کا ڈھونگ کھڑا کر لیا تھا، چنانچہ مارکس اور انگلس کے کمیونسٹ مینی فستو میں کہا گیا ہے: "قانون، اخلاق، مذہب سب بورژوا کی فریب کاری ہے جس کی آڑ میں اس کے بہتے مفاد چھپے ہوئے ہیں"

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page