سوشلزم کا فلسفہ
Urdu book, p. 130
By Maulana Wahiduddin Khan
ایسی حالت میں سب کو ایک حیثیت دینے کی کوشش کرنا مظلوم کے مقابلہ میں ظالم کی مدد کرنا ہے۔ اس لئے ایسی تمام اخلاقیات جانب داری کی اخلاقیات ہیں۔ صحیح انسانی اخلاق وہ ہے جو صرف مظلوم طبقہ کی حمایت کرتا ہو۔ اس تصور کے مطابق مارکسزم تمام مذہبی اور اخلاقی نظریات کا انکار کرتی ہے اور ان کو صرف بورژوا کی مکاری قرار دیتی ہے۔ نوجوان کمیونسٹ لیگ کی تیسری کل روس کانگریس منقدہ ۲ را کٹو بر ۱۹۲۰ء میں لینن نے اس الزام کا جواب دیتے ہوئے کہ "کمیونسٹ اخلاق کو نہیں مانتے" کہا تھا : " ہم کن معنوں میں اخلاقیات کے منکر ہیں، ان معنوں میں کہ وہ بورژوا طبقہ کی طرف سے پیش کئے گئے ہیں جو اخلاقی اصولوں کو خدا کے احکام و ہدایات سے اخذ کرتا ہے یقینا ہم خدا کو نہیں مانتے، ہم خوب جانتے ہیں کہ ارباب کلیسا، زمیندار اور بورژوا طبقہ جو خدا کے حوالہ سے کلام کرتے ہیں وہ محض استحصال کرنے والے کی حیثیت سے اپنے مفادات کا تحفظ کرنا چاہتے ہیں۔ ...... ہم ایسے تمام اخلاقی ضابطوں کا انکار کرتے ہیں جو انسانوں سے ماوراکسی مافوق طاقت سے اخذ کئے گئے ہوں یا طبقاتی تصور پر مبنی نہ ہوں۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ ایک دھوکا ہے، ایک فریب ہے، زمینداروں اور سرمایہ داروں کے مفاد کے لئے مزدوروں اور کسانوں کی فکر پر پردہ ڈالنا (Befogging of the mind) ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ ہمارا ضابطۂ اخلاق تمام تر صرف پرولتاریہ کی طبقاتی جد و جہد کے تابع ہے۔ ہمارے اخلاقی اصول کا ماخذ پرولتاریہ کی طبقاتی جد و جہد کا مفاد ہے ۔ ہمارا سماج زمینداروں اور سرمایہ داروں کی طرف سے مزدوروں اور کسانوں کی لوٹ پر قائم تھا۔ ہمیں اس کو تباہ کرنا ہے، ہمیں اس نظام کا تختہ الٹنا ہے ، مگر اس کے لئے ہمیں اتحاد پیدا کرنے کی ضرورت ہے، خدا اس قسم کا اتحاد پیدا نہیں کر سکتا۔ یہ اتحاد صرف کارخانوں اور صنعت گاہوں کے ذریعہ پیدا کیا جاسکتا ہے اس صرف پرولتاری طبقہ پیدا کر سکتا ہے جو تربیت یافتہ ہے اور جو لمبے خواب سے جاگ اٹھا ہے ...... صرف یہی طبقہ محنت کش عوام کو منظم کر سکتا ہے، ان کی صف بندی کر سکتا ہے، قطعیت کے ساتھ مقابلہ کر سکتا ہے، پوری طرح مستحکم ہو سکتا ہے اور یقینی طور پر کمیونسٹ سماج کی تعمیر کر سکتا ہے۔ یہ سبب ہے جس کی بنا پر ہم کہتے ہیں کہ انسانی سماج سے باہر اخلاق نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ یہ ایک فریب ہے۔ ہمارا اخلاق وہ ہے جو پرولتاریہ کی طبقاتی جد و جہد کے تابع ہو لیس ،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader