سوشلزم کا فلسفہ
Urdu book, p. 131
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسرا اختلاف اسی طرح سوشلسٹ فلسفہ مذہب کی اس حیثیت کو رد کرتا ہے کہ وہ انسان کو حق و صداقت پر قائم کرنے کی صراط مستقیم ہے۔ اس کے نزدیک یہ مظلوم طبقہ کے خلاف ظالم طبقہ کی ایک سازش ہے۔ یہ ظلم اور استحصال کے نظام کو باقی رکھنے کی ایک مکروہ کوشش ہے جو حق و صداقت کے نام سے شروع کی گئی ہے۔ مذہب کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک دائمی صداقت ہے جس میں کبھی تبدیلی نہیں ہو سکتی جو ہر زمانہ کے انسانوں کے لئے یکساں حیثیت سے ضروری ہے۔ مگر مارکسی فلسفہ اس کے برعکس ایسے کسی اصول کو تسلیم نہیں کرتا۔ وہ انسانی تاریخ کو مختلف تاریخی ادوار میں تقسیم کرتا ہے۔ اس کے نزدیک انسانی زندگی میں کسی دائمی صداقت کا کوئی سوال ہی نہیں کیونکہ تمام اصول اور فلسفے کسی مخصوص اقتصادی دور کے تحت پیدا ہوتے ہیں اور جب کوئی اقتصادی دور ہمیشہ کے لئے نہیں ہوتا تو اس کے تحت پیدا شدہ فلسفے کس طرح ہمیشہ کے لئے ہو سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مذہب وافلاق کا درس محض اضافی نوعیت رکھتا ہے جو ہمیشہ وقت کے معاشی حالات کے تابع رہا ہے۔ تمام اصول و تصورات کسی مخصوص معاشی نظام کی حمایت کے لئے وجود میں آتے ہیں اور اس معاشی نظام کے بدلنے کے ساتھ خود بھی بدل جاتے ہیں۔ انسانی زندگی میں دائمی صداقت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ ایسے اصول ہو سکتے ہیں جو تاریخ کے کسی مخصوص دور میں انسان کی رہبری کا کام دیں، لیکن ان کا کام ایک متعین زمانہ کے بعد ختم ہو جاتا ہے اور اس کے بعد پھر وہ اصول کسی کام کے نہیں رہتے۔ کیونکہ بعد کے دور میں جب سماجی حالات بدل جاتے ہیں اس وقت ان اصولوں میں بھی صداقت باقی نہیں رہتی جو قدیم سماجی حالات میں پیدا ہوئے تھے۔ اس نظریہ کے مطابق اسلام کا زیادہ سے زیادہ اعتراف یہ ہے کہ اس کو ایک تاریخی چیز مان لیا جائے جو صدیوں پہلے انسانی ترقی کے ایک قدیم دور کی پیداوار تھا، اس کی قدر و قیمت اپنے تاریخی دور کے لئے خواہ کچھ ہو، مگر انسانی تہذیب ترقی کرتے کرتے اب جس دور تک پہنچی ہے اس میں اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ انسانیت کی تکمیل کے لئے اب اس سے روشنی حاصل کرنے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ وہ جس دور تہذیب کی پیداوار ہے اس وقت تک ابھی انسانیت کی تکمیل ہی نہیں ہوئی تھی۔ وہ تو سفر ارتقاء کے ابتدائی زمانہ کی یادگار ہے، نہ کہ دور تکمیل کی پیداوار۔ پھر آج کی دنیا میں ایسے کسی نظریہ سے رہ نمائی حاصل کرنے کا کیا سوال ہے، ماضی کے نظریات حال کے لئے بیکار ہیں اور حال کے نظریات مستقبل کے لئے بے کار ہوں گے۔ اسلام بھی اپنی قسم کے دوسرے نظریات کی طرح انسان کی عمرانی تاریخ کا ایک باب تھا جو اپنا وظیفہ حیات پورا کرنے کے بعد ختم ہو چکا ہے۔ اینگلس نے اپنی کتاب "اینٹی ڈیورنگ کے ایک باب میں دائمی سچائیاں (Eternal truths) کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے لکھا ہے کہ تمام انسانوں کے نزدیک اخلاق کا کبھی ایک معیار نہیں رہا ہے۔ عجیب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader