سوشلزم کا فلسفہ
Urdu book, p. 132
By Maulana Wahiduddin Khan
ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے موجودہ سماج کے تین طبقے جاگیرداری، امراء، بورژوا اور پرو لٹاریہ سب اپنا ایک ضابطہ اخلاق رکھتے ہیں تو ہم صرف اسی نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ انسان شعوری یا غیر شعوری طور اپنے اخلاقی نظریئے اپنے عملی تعلقات سے اخذ کرتے ہیں جن پر ان کا طبقاتی وجود قائم ہے یعنی ان اقتصادی تعلقات سے جن کے اندر وہ پیدا وار اور تبادلہ کا نظام قائم کرتے ہیں“ اس کے بعد وہ لکھتا ہے: ”اس لئے ہم ہر ایسی کوشش کی تردید کرتے ہیں جس کا مقصد ہمارے اوپر کسی بھی اخلاقی عقیدہ کو دائمی صداقت کے طور پر مسلط کرنا ہو، آخر اور ہمیشہ باقی رہنے والا اخلاقی قانون اس حیلے سے کہ عالم مادی کی طرح، اخلاقی دنیا بھی اپنے مستقل اصول رکھتی ہے جو تمام قوموں میں اور تاریخ کے ہر دور میں یکساں حیثیت سے موجود رہتے ہیں ۔ اس کے برعکس ہمارا دعوی یہ ہے کہ اب تک کے تمام اخلاقی نظریئے، اپنے آخری تجزیہ میں وقت کے اقتصادی حالات کی پیدا وار رہے ہیں۔ اور چونکہ سوسائٹی اب تک طبقاتی اختلافات کی طرف حرکت کرتی رہی ہے، اس لئے اب تک کے تمام اخلاق بھی طبقاتی اخلاق رہے ہیں۔ اس میں وہ اخلاق بھی شامل ہے جو برسر اقتدار طبقہ کے تسلط اور اس کے مفاد کو جائز قرار دیتا ہے اور وہ اخلاق بھی، جو دبے ہوئے طبقہ کے برسر اقتدار آنے تک موجودہ تسلط کے خلاف اس کی برہی اور مستقبل میں اس کے مفاد کا اظہار کرتا ہے۔ اس عمل کے دوران میں اخلاقیات کا مجموعی طور پر ارتقار ہو رہا ہے، جیسا کہ دوسرے انسانی علوم میں ارتقار ہو رہا ہے، مگر ابھی تک ہم طبقاتی اخلاق کی حدوں سے پار نہیں ہو سکتے ہیں۔ ایک حقیقی انسانی اخلاق جو طبقاتی خصومت سے بلند ہو اور اس کے تذکرہ تک سے پاک ہو اسی وقت ممکن ہوگا جب سوسائٹی ایسے مقام پر پہنچ جائے گی جہاں نہ صرف یہ کہ طبقاتی تضاد ختم ہو چکا ہوگا بلکہ عملی زندگی میں بھی وہ بالکل اسے بھلا دے گی۔ جو یہ کہتا ہے کہ ایسا بھی اخلاق ہو سکتا ہے جو وقت اور تبدیلی سے آزاد ہو اور ہر زمانہ میں جس کی تعمیل ضروری ہو، وہ ایک فرضی دعویٰ کرتا ہے کیونکہ آج کوئی بھی نہیں جان سکتا کہ مستقبل کا سماجی ڈھانچہ کس قسم کا ہوگا یہ سوشلسٹ فلسفہ کا دوسرا جزو ہے جس کا مطلب یہ ہے اسلام کے اندر ممکن ہے کچھ صداقت ہو مگر یہ صداقت کوئی ابدی صداقت نہیں ہے۔ اس کی جو کچھ بھی قدر و قیمت قرار دی جائے وہ محض وقتی قدر و قیمت ہوگی جو اپنے زمانہ کے لئے تھی اور اس زمانہ کے ختم ہونے کے ساتھ اس کی یہ قدر و قیمت بھی ختم ہو چکی ہے۔ بعد کے زمانوں میں اسلام کو پیش کرنا بالکل ایسا ہی ہے جیسے اینٹ اور سیمنٹ کے موجودہ دور میں کوئی شخص بھٹ کے اندر زندگی گزارنے پر اصرار کرے۔ تیسرا اختلاف یہ نظریہ صرف انھیں حیثیتوں سے دین حق کے ساتھ نہیں ٹکراتا بلکہ اس سے آگے بڑھ کر یہ شریعت الہی کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader