سوشلزم کا فلسفہ
Urdu book, p. 133
By Maulana Wahiduddin Khan
ضرورت ہی کا انکار کرتا ہے۔ اس کے نزدیک نہ تو اس کائنات کا کوئی خدا ہے اور نہ اس کی ضرورت کہ آدمی اس سے ہدایت حاصل کرے۔ اس نظریہ کو تسلیم کرنے کے بعد انسانیت کی تکمیل اور زندگی کو کامیابی تک لے جانے میں کسی مابعد الطبیعی نظریہ کا کوئی کام باقی نہیں رہتا۔ ہمارا ایمان ہے کہ انسان حقیقت تک اس کے بغیر نہیں پہنچ سکتا کہ وہ شریعت الہی اور رسول خدا کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا رہ نما بنائے مگر مارکسی تشریح کے مطابق انسان کو اپنی زندگی کی تعمیر و ترقی کے لئے اس طرح کے کسی ہدایت نامہ کی سرے سے ضرورت نہیں۔ کیونکہ وہ ایک مادی عمل کے ذریعہ خود ہی کامیابی کی طرف رواں دواں ہے۔ وہ کسی خالق اور رب کے بغیر مادی اسباب کے ذریعہ خود بخود انسانی شکل میں مجسم ہوا تھا اور اب معاشی عمل کے ذریعہ ایک ایسے مستقبل کی طرف سرگرم سفر ہے جہاں اس کی تکمیل ہو جائے گی، جہاں اسے وہ سب کچھ مل جائے گا جو وہ چاہتا ہے۔ گویا ڈارون کے نظریہ ارتقاء نے خدا کے وجود سے انکار کیا تھا اور مارکسی فلسفہ وحی و رسالت کی ضرورت سے انکار کر رہا ہے۔ ایک نے خدا کو بے ضرورت ثابت کیا اور دوسرے نے خدا کے رسول کو۔ بلکہ ایک لحاظ سے مارکسزم ان دونوں نظریات کا مجموعہ ہے، کیونکہ وہ ڈارون کے نظریہ کو تسلیم کرتا ہے اور اس کو بنیاد بنا کر اس کے اوپر اپنے نظریہ کی اگلی منزل تعمیر کرتا ہے اور اس کو زیادہ مکمل بنا دیتا ہے۔ مارکس کا رفیق کار فریڈرش اینگلز اپنی کتاب "سوشلزم۔ یوٹوپین اینڈ سائنٹفک" میں یہ بتاتے ہوئے کہ کس طرح معاشی سفر کے بعد انسانی تاریخ کے ایک ایسے مقام پر پہنچتی ہے کہ "ذرائع پیداوار پر پوری سوسائٹی کا قبضہ ہو جائے" لکھتا ہے: "........ یہ امکان کہ اجتماعی پیداوار کی بدولت سوسائٹی کا ہر فرد ایسی زندگی بسر کرے کہ نہ صرف اس کی مادی ضروریات بخوبی پوری ہونے لگیں، بلکہ ان کے لئے اس بات کی بھی ضمانت ہو کہ ہر فرد اپنی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کو پوری آزادی کے ساتھ ترقی دے سکے؛ پہلی بار پیدا ہوا ہے۔ جب ذرائع پیداوار پر سوسائٹی کا قبضہ ہو جاتا ہے تو پھر اجناس تبادلہ کی پیداوار بھی ختم ہو جاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی پیداوار کے پیدا کرنے والوں پر غلبہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔ پیداوار کی انارکی ختم ہو کر اس کی جگہ پیداوار کی ہوش مندانہ تنظیم شروع ہو جاتی ہے۔ انفرادی بقا کے لئے کش مکش بھی ختم ہو جاتی ہے۔ اس وقت انسان پہلی بار حقیقی معنوں میں بقیہ حیوانی دنیا سے ہمیشہ کے لئے الگ ہو جاتا ہے اور زندگی کے خالص حیوانی دور سے نجات پا کر ایک حقیقی انسانی زندگی میں داخل ہو جاتا ہے، زندگی کا وہ پورا ماحول جو اب تک انسان کا احاطہ کئے ہوئے تھا اور جو اب تک تھا، اب انسان اس کے ماتحت ہوگا۔ انسان اب ہمارے ہم عصر فطرت کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader