سوشلزم کا فلسفہ
Urdu book, p. 134
By Maulana Wahiduddin Khan
گویا یہ ایک جبری حالت ہے جو قدرت اور تاریخ کی طرف سے اس کے اوپر عائد کر دی گئی ہے، اب اس کا اپنا اختیاری معاملہ بن جائے گی۔ وہ خارجی قوتیں، جواب تک تاریخ پر غالب تھیں انسان کے اپنے تصرف میں آ جائیں گی۔ صرف اسی مرحلہ پر پہنچ کر انسان اپنے پورے شعور کے ساتھ اپنی تاریخ آپ بنائیں گے۔ صرف اسی مرحلہ پر پہنچ کر انسان کے حرکت میں لائے ہوئے علمی اسباب انسان کی اپنی مرضی کے مطابق نتائج پیدا کریں گے۔ انسان احتیاج کی دنیا سے نکل کر اختیار کی دنیا میں داخل ہو جائے گا۔ یہ اشتراک کا تیسرا جزو ہے، جو اسلام کی ساری حیثیت کو ختم کر دیتا ہے، ہمارا عقیدہ ہے کہ اسلام زندگی کی شاہراہ ہے۔ وہ انسان کو حقیقی کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔ مگر یہ نظریہ بتاتا ہے کہ زندگی کے سفر میں اسلام کی کوئی حیثیت نہیں۔ وہ انسان کو منزل تک نہیں پہنچاتا۔ جو چیز ہمیں اپنی منزل تک پہنچاتی ہے وہ دولت کی پیداوار کا ایک خاص نظام ہے جو تاریخی اسباب کے تحت وجود میں آتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں زندگی کی کامیابی کا راز کسی وی خداوندی میں ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں۔ اس کے اسباب خود ہمارے سماجی حالات میں موجود ہیں اور مستقل طور پر اپنا کام کر رہے ہیں۔ جو کامیاب زندگی ہم چاہتے ہیں وہ انھیں حالات کے اندر سے ایک لوز برآمد ہوگی؛ نہ کہ خدا کے قانون پر عمل کرنے سے حاصل ہوگی۔ اوپر میں نے مارکسی فلسفہ کا جو تجزیہ کیا ہے، اس سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ مارکسزم اسلام کے بالمقابل اس کے ایک برعکس نظریہ ہے جس پر ایمان لانے کے بعد اسلام کا کوئی سوال باقی نہیں رہتا۔ حقیقت یہ ہے کہ مارکسزم ایک مکمل غیر اسلامی نظریہ ہے جس کو اختیار کرنا ایمان و اسلام سے دستبردار ہونے کے ہم معنی ہے۔ چنانچہ فریڈرش انگلس نے ’’تاریکی مادیت‘‘ کے نظریہ پر بحث کرتے ہوئے ۱۸۹۲ء میں کہا تھا : ’’ اس عالم کے ارتقائی وجود میں آج کسی بادشاہ یا کسی خدا کے لئے مطلق کوئی جگہ باقی نہیں ہے۔ اور کسی ایسی ہستی اعلیٰ (Supreme Being) کا تصور کرنا جو اس عالم موجودات سے الگ تھلگ ہو، اپنے اندر ایک عظیم اصطلاحی تضاد رکھتا ہے؛ ۲ لینن نے لکھا ہے :- ’’ مارکسزم مادیت کا دوسرا نام ہے اور اس لئے یہ مذہب کی دلی ہی سخت دشمن ہے۔ جیسی اٹھارویں صدی کی عام مادیت یا فیورباخ کی مادیت تھی۔ اس میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں۔ مگر مارکس اور انگلس کی ’’جدلی مادیت‘‘ فیورباخ اور اٹھارویں صدی کے دوسرے مادہ پرستوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader