Urdu book · سوشلزم اور اسلام

سوشلزم کا فلسفہ

Urdu book, p. 135

By Maulana Wahiduddin Khan

سے آگے جاتی ہے۔ یہ مادی فلسفہ کو تاریخ اور عمرانیات پر استعمال کرتی ہے‘ 1۔ یعنی مارکس کا فلسفہ اور اس کی خدا بے زاری دو الگ الگ چیزیں نہیں ہیں کہ کوئی شخص خدا کے بارہ میں اس کے اقوال کو اس کا ایک نجی معاملہ قرار دے کر اس کے فلسفہ کو قبول کرلے۔ بلکہ انکارِ خدا ہی پر اس کے سارے فلسفہ کی بنیاد ہے۔ یہ ایک وحدت کے دو رخ ہیں۔ مارکس نے مادی طرزِ فکر کو سماجی مسائل کا مطالعہ کرنے اور اس کا حل ڈھونڈنے میں استعمال کیا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ اس دنیا کا نہ تو کوئی خدا ہے اور نہ وہ ہماری رہ نمائی کرتا ہے۔ مارکس الگ سے خدا کا انکار نہیں کرتا۔ بلکہ اس نے جو فلسفہ مرتب کیا ہے خود اس کے لازمی تقاضے کے طور پر خدا اور مذہب بالکل بے معنی ہو جاتے ہیں۔ سوشلزم اور اسلام کے فرق کو نہ سمجھنے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سوشلزم کو عام طور پر صرف ایک معاشی نظریہ سمجھا جاتا ہے۔ اس تعبیر میں صداقت کا ایک جزو ہے۔ مگر حقیقتًا یہ ایک ناقص تعبیر ہے۔ سوشلزم زندگی کا ایک جامع تصور ہے جس طرح اسلام زندگی کا ایک جامع تصور ہے۔ اسلام کے بارہ میں جس طرح یہ کہنا صحیح نہیں ہوسکتا کہ وہ زندگی بعد موت کا ایک نظریہ ہے۔ اسی طرح سوشلزم کے بارہ میں یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ وہ صرف ایک معاشی نظریہ ہے۔ زندگی کا معاشی یا سیاسی نظریہ بجائے خود کچھ نہیں ہوا کرتا۔ وہ دراصل اس بنیادی تصور کا عکس ہوتا ہے جو زندگی کے بارہ میں طے کیا جاتا ہے۔ ہم کیا ہیں اور یہ کائنات کیا ہے۔ یہ ہماری زندگی کے بنیادی سوالات ہیں۔ ان سوالات کا جو جواب ہوگا اسی کی مناسبت سے زندگی کے سیاسی اور تمدنی نقشے بنائے جائیں گے ۔ جو کچھ ہے وہ کیوں ہے‘ اس سوال کا جواب تعین کرنے کے بعد ہی ہم یہ طے کر سکتے ہیں کہ جو کچھ ہونا چاہئے وہ کیا ہے۔ اسلام ان سوالات کا ایک جواب دیتا ہے جس کے لازمی نتیجہ کے طور پر زندگی بعد موت کا تصور پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح سوشلزم ان سوالات کا ایک جواب ہے جس کے لازمی نتیجہ کے طور پر اس کا معاشی تصور سامنے آتا ہے۔ ایک اس کا فلسفہ ہے دوسرا اس کا عملی نظام۔ دونوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ جو لوگ مذہبی نظریات کے ساتھ سوشلزم کے اصل فرق کو نہیں سمجھتے وہ عمومًا اس غلط فہمی میں پڑ جاتے ہیں کہ مذہب کے ساتھ سوشلزم کا اختلاف شاید ان اقوال سے ظاہر ہوتا ہے جو مارکس اور اس کے متبعین کی طرف منسوب ہیں۔ مثلاً مذہب عوام کی افیون ہے“ "خدا اور بادشاہ دو کھوت ہیں" یا پھر اس اختلاف کا ثبوت وہ واقعات ہیں جو کمیونسٹ ملکوں میں پیش آئے۔ یعنی مسجدوں اور گرجاﺅں کو کلب گھر بنا دینا‘ مذہبی اوقات کو ضبط کر لینا‘ اہل مذہب کو ظلم و ستم کا نشانہ بنانا‘ مذہبی تعلیم اور مذہبی شعائر کا خاتمہ کرنا‘ وغیرہ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page