سوشلزم کا فلسفہ
Urdu book, p. 136
By Maulana Wahiduddin Khan
اسی لئے بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ یہ اقوال اگر چہ بہت سخت ہیں اور مذہب کے خلاف جو کارروائیاں کی گئیں وہ بھی بڑی ظالمانہ ہیں۔ مگر ان کا تعلق سوشلسٹ فلسفہ سے نہیں ہے۔ جہاں تک اقوال کا معاملہ ہے، اس میں شک نہیں کہ ان میں خدا اور تمام مذہبی تصورات پر سخت تنقید کی گئی ہے؛ مگر یہ تمام اقوال دراصل اس بگڑے ہوئے مذہبی نظام سے متعلق ہیں جو مارکس اور دوسرے اشتراکی مفکروں کے سامنے موجود تھا۔ یہ اقوال دراصل پاپائی نظام پر چسپاں ہوتے ہیں نہ کہ صحیح مذہب پر۔ ان اقوال سے اگر قطع نظر کر لیا جائے تو اسلامی نقطہ نظر سے مارکسی فلسفہ میں کوئی خرابی نہیں ہے۔ اسی طرح اشتراکی ممالک میں مذہب والوں پر جو مظالم کئے گئے ہیں ان کی بھی اتنی زیادہ اہمیت نہیں ہے جتنی بظاہر نظر آتی ہے۔ ان واقعات کی ذمہ داری کچھ تو خود اہلِ مذاہب پر ہے جو مذہب کی صحیح تعلیمات سے ہٹے ہوئے تھے۔ انھوں نے اپنے غلط اور وقتیانوسی طرزِ عمل سے خود ہی اپنا وقار کھو دیا، اس لئے ان کے ساتھ جو کچھ پیش آیا ایک لحاظ سے وہ اسی کے مستحق تھے اور کچھ ذمہ داری ان واقعات کی ان حکمرانوں پر ہے جن کو کمیونسٹ نظام کا سر براہ کار بنایا گیا تھا۔ پھر بعض اشخاص نے اگر مشتعل ہو کر مذہب کے خلاف کچھ سخت اقدامات کئے تو اس سے اصل فلسفہ یا اس کے بانیوں کی غلطی کہاں ثابت ہوتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ محض فریب ہے' ایسا کہنے والے لوگ یا تو سوشلسٹ فلسفہ سے بے خبر ہیں یا جان بوجھ کر دوسروں کو فریب دینا چاہتے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا ہے مارکزم ایک مکمل نظریہ ہے جو مذہبی تصورات کے عین المقابل کھڑا کیا گیا ہے۔ مذہب زندگی کے بنیادی سوالات کی ایک تشریح ہے۔ وہ زندگی کو حقیقی کامیابی تک پہنچانے کا ایک پروگرام ہے، جو یہ ہے کہ اس کائنات کا ایک خدا ہے ' وہی سارے واقعات کا حقیقی سبب ہے ۔ اس نے انسانوں کی رہ نمائی کے لئے کچھ اصول بھیجے ہیں، یہی وہ اصول ہیں جو انسانی ارتقا کی شاہراہ ہیں۔ جو ان اصولوں کو اپنی زندگی میں اختیار کرے گا وہ کامیاب ہو گا اور جو انھیں ترک کر دے گا وہ ناکام ہوگا ۔ مارکسزم اس کے برعکس مذکورہ سوالات کی بالکل دوسری تشریح پیش کرتا ہے۔ وہ زندگی کی کامیابی کا ایک اور ہی راز بتاتا ہے۔ وہ یہ کہ کائنات کے تمام واقعات کا آخری سبب مادی قوانین میں ہے نہ کہ اس سے باہر۔ وہ صرف مادی حالات ہیں جنھوں نے انسان کو اس کی موجودہ شکل میں وجود دیا ہے۔ پھر وہ مادی حالات ہی ہیں جو اس کو کامیابی کی منزل تک پہنچائیں گے۔ اس عالم کا کوئی خدا نہیں ہے جس کی مرضی کو پالینا کامیابی ہو ۔ اور نہ یہاں کسی قسم کے ابدی اصول ہیں جن کی پابندی کرنی ضروری ہو ۔ انسان کا اپنا مادی ماحول ہی وہ قوت ہے جو انسان کو سب کچھ بناتا ہے۔ تمام تصورات اور نظریات انھیں مادی حالات کے زیر اثر پیدا ہوئے ہیں یہی مادی حالات ہیں جو ایک خاص اندرونی منطق کے تحت اس کو ارتقار کی منزل کی طرف لے جا رہے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader