Urdu book · سوشلزم اور اسلام

سوشلزم کا حل

Urdu book, p. 141

By Maulana Wahiduddin Khan

جوٹ کھسوٹ کی انتہائی بھیانک شکل اختیار کر گیا تھا۔ یہ نظام چونکہ انفرادی ملکیت کے تصور پر مبنی تھا اور اس کے وکیل انفرادی ملکیت کے حوالہ سے اپنے بر سر حق ہونے پر استدلال کر رہے تھے اس لئے قدرتی طور پر اس کی یہ حیثیت ہو گئی گویا یہی وہ نظام ہے جو انفرادی ملکیت کے تصور کے تحت پیدا ہوتا ہے۔ جس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ موجودہ مسلمان، خواہ وہ اسلامی تصورات کے عین برعکس کیوں نہ ہوں، مگر اسلام کے نام لیوا ہونے کی وجہ سے یہی اسلام کے حقیقی نمائندے سمجھے جاتے ہیں اور انھیں کی زندگیوں کو دیکھ کر دنیا خود اسلام کے بارے میں رائے قائم کرتی ہے، ٹھیک اسی طرح یورپ کا یہ قید سرمایہ دارانہ نظام اصولی طور پر انفرادی ملکیت کے نظریہ کا نمائندہ قرار پا گیا۔ دوسری طرف اجتماعی ملکیت کا تصور تھا جس نے ابھی تک کہیں عملی نظام کی شکل اختیار نہیں کی تھی، جو صرف ایک تمنا کے طور پر لوگوں کے دلوں میں ابھر رہا تھا۔ اس طرح یہ بحث جو دراصل ایک بگڑے ہوئے معاشی نظام اور اجتماعی ملکیت کے خیالی تصور کے درمیان تھی نہایت آسانی سے انفرادی ملکیت کے نظام اور اجتماعی ملکیت کے نظام کی بحث بن گئی۔ انفرادی ملکیت کا نظام کیسا ہوتا ہے؟ اس کو سمجھنے کے لئے لوگ وقت کے معاشی نظام کو دیکھتے تھے اور اجتماعی ملکیت کا نظام کیسا ہو گا؟ اس کو سمجھنے کے لئے اس کے علمبردار مفکرین کے وہ دعوے تھے جو وہ اپنے خیالی نظام کی حمایت میں نشر کر رہے تھے۔ انفرادی ملکیت کے تصور کی نمائندگی کے لئے ایک بگڑا ہوا معاشی نظام تھا جو اپنی ساری خرابیوں کے ساتھ سامنے موجود تھا۔ اور اجتماعی ملکیت کے تصور کی نمائندگی کے لئے صرف وہ خوبصورت لفظی تصویریں تھیں جو اس کے حامی بڑے زور شور کے ساتھ پیش کر رہے تھے۔ ان حالات میں قدرتی طور پر ایک ایسی فضا بن گئی کہ اب جو شخص انفرادی ملکیت کا نام لے وہ گویا انیسویں صدی کے سرمایہ دارانہ نظام کا حامی ہے اور جو شخص اجتماعی ملکیت کی باتیں کرے وہ گویا اس نظام کو لانا چاہتا ہے جو صحیح ترین معاشی نظام ہو گا جو وقت کی تمام خرابیوں سے پاک ہوگا۔ انفرادی ملکیت کی حمایت و وحشیانہ رجعت پسندی قرار پائی اور اجتماعی ملکیت کا نعرہ لگانے والوں کو روشن خیال اور انسانی بہتری کا علم بردار قرار دے دیا گیا۔ یہ صورتِ حال اہل مذاہب کے لئے بڑی سخت ثابت ہوئی۔ یہ واقعہ ہے کہ مذہب اپنے چند خاص شرائط کے ساتھ ہمیشہ سے انفرادی ملکیت کا حامی رہا ہے۔ تمام مذاہب کے نزدیک کسی شخص کی ملکیت، اگر وہ جائز ملکیت ہے، قطعی طور پر محترم ہے اور اس کو سلب نہیں کیا جا سکتا۔ مذاہب کی اسی تعلیم کی بنا پر مارکس کو مذہب کے خلاف سخت محاذ بنانا پڑا۔ وہ اپنے حامیوں کو جس ملکیتی نظام کا تختہ الٹنے کے لئے تیار کرنا چاہتا تھا اس کی پشت پر سب سے بڑی نظریاتی حمایت یہی مذہب کی تعلیمات تھیں۔ اس لئے اس نے کہا کہ مذہب کی حقیقت اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ وہ ملکیتی طبقہ کا ڈھونگ ہے جس کو اس نے اپنی ملکیتوں کے تحفظ کے لئے گھڑ لیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page