Urdu book · سوشلزم اور اسلام

سوشلزم کا حل

Urdu book, p. 142

By Maulana Wahiduddin Khan

اہل مذاہب کی سوشلزم سے مرعوبیت یہ حالات اس وقت پیش آئے جب کہ ابھی جلدی یورپ میں سائنس اور مذہب کے تصادم میں مذہب شکست ہوئی تھی اور اقتدار کا مرکز کلیسا کے ہاتھ سے نکل کر مادیت کے علم برداروں کے ہاتھ میں چلا گیا تھا۔ کلیسا کے اوہام و خرافات جن کو غلطی سے مذہب کا نام دے دیا گیا تھا اور جن کے تحفظ کے لیے طویل مدت تک جنگیں کی گئی تھیں، وہ سائنس کے جدید انکشافات کی روشنی میں بے بنیاد ثابت ہو چکے تھے۔ ان حالات کا ایک نتیجہ یہ ہوا کہ سوسائٹی کے اوپر سے مذہب کا وہ اقتدار ختم ہو گیا جو مدت دراز سے چلا آ رہا تھا۔ دوسرا اس سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ اہل مذاہب مستقل طور پر ذہنی شکست خوردگی میں مبتلا ہو گئے ۔ ان کے اندر احساس کمتری پیدا ہو گیا۔ وہ سمجھنے لگے کہ حق ہماری جانب نہیں بلکہ سائنس کی جانب ہے۔ وہ اپنی ہر بات کو مشتبہ اور اور نام نہاد سائنس کے علم برداروں کی طرف سے پیش کی ہوئی ہر بات کو قطعی سمجھنے لگے ۔ مگر اس کے باوجود ان میں بہت سے لوگوں کے لیے یہ ممکن نہ ہو سکا کہ مذہب کو بالکل اپنے ذہن سے کھرچ کر نکال دیتے۔ وہ سائنس کی فتوحات سے مرعوب تھے مگر اس کے ساتھ مذہب کے تعویذ کو بھی سینے سے لگائے رکھنا چاہتے تھے۔ مگر سوال یہ تھا کہ ان دو متضاد قسم کے رجحانات کے درمیان مطابقت کی شکل کیا ہو۔ سائنس ہرگز اس کے لیے تیار نہیں ہو سکتی تھی کہ اپنے مزعومات کو مذہب کے اصولوں کا پابند رکھنے کی کوشش کرے۔ غالب اپنے مغلوب کے حق میں کبھی روادار نہیں ہوتا۔ یہ کام مذہب کو کرنا تھا کہ سائنس کو ۔ چنانچہ ان اہل مذاہب نے اس وقت مذہب کی بہترین خدمت یہ سمجھی کہ مذہب کو تراش خراش کر جدید نظریات کے عین مطابق ثابت کر دکھائیں ۔ اپنی مخصوص ذہنیت کے ساتھ وہ یہی کام کر سکتے تھے اور یہی انھوں نے کرنا شروع کر دیا۔ یہ قصہ صرف ان غلط روایات و نظریات کے ساتھ پیش نہیں آیا جن کو مذہب کو مذہب والوں نے خود سے گھڑ کر مذہب کی طرف منسوب کر دیا تھا اور اب نئی دریافتوں نے جن کی غلطی بالکل واضح کر دی تھی، بلکہ مذہب کی اصل تعلیمات بھی اس کی زد میں آگئیں جن کے خلاف سائنس کے پاس کوئی حقیقی دلیل نہیں تھی بلکہ اس نے ردعملور ردعمل کے جوش میں ان سے انکار کر دیا تھا۔ اسی سلسلہ کی ایک مثال یہ سوشلسٹ نظریہ بھی ہے جو سائنس اور صنعت کی ترقی کے ساتھ یورپ میں پھیلا اور بالآخر ساری دنیا میں چھا گیا۔ اس صورت حال کا سب سے پہلا اور براہِ راست اثر مسیحی مذہب پر ہوا۔ چنانچہ عیسائیوں میں بہت سے لوگ اٹھے جنھوں نے کہنا شروع کیا کہ "سوشلزم ہی خدا کو پسند ہے" اور "سچی عیسائیت مشترک ملکیت کا دوسرا نام ہے" اس زمانہ میں "عیسائی اشتراکیت" (Christian Socialism) کی ایک مخصوص اصطلاح وضع ہوئی جس کا مطلب تھا "سوشلزم کی حامی عیسائیت" جرمن ادب میں اس عیسائی اشتراکیت کی مخصوص

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page