Urdu book · سوشلزم اور اسلام

سوشلزم کا حل

Urdu book, p. 144

By Maulana Wahiduddin Khan

نے ایک جلسہ میں ۲۰ مارچ ۱۹۰۷ ء میں لیورپول کی " آزاد مزدور پارٹی " کی طرف سے منعقد کیا گیا تھا ، اپنے خیال کا اظہار اس طرح کیا : " میں ایک اشتراکی ہوں اس لئے کہ میں عیسائی ہوں۔ خود انجیل کی منطق نے مجھے اس نتیجہ پر پہنچایا کہ جو کچھ حضرت عیسیٰ کا گرجا اپنے ابتدائی زمانہ میں چاہتا تھا وہی آج اشتراکی پارٹی چاہتی ہے ۔ وہ در حقیقت خدا کی سلطنت کو قائم کرنے کی جرات کر رہی ہے۔ انیس سو برس گزر گئے اور ابھی تک یہ نصب العین پورا نہ ہو سکا۔ لیکن اے اشتراکیو ! تم نے سرے سے اس قدیم حق کے حاصل کرنے کی تبلیغ کرو اور دکھاؤ کہ گرجا کی صحیح تعلیم کی عملی شکل تم میں موجود ہے۔" جنوری ۱۹۰۷ ء میں انگلستان کے مختلف گرجاؤں کی انجمنوں کے سو سے زائد پادریوں نے اشتراکیت کی حمایت میں ایک متفقہ اعلان شائع کیا تھا۔ اس میں انھوں نے غلط فہمی سے بچنے کے لئے صاف طور پر یہ بھی تحریر کیا تھا کہ ان کی اشتراکیت کوئی الگ قسم کی اشتراکیت نہیں ہے ۔ بلکہ "وہی ہے جس کا تعلق تمام دنیا کے اشتراکیوں سے ہے اور اس میں پیداوار اور دولت کے ذرائع کا مشترکہ ہونا شامل ہے۔ ہمارا اشتراکیت کا تصور کچھ کم سنجیدہ یا کچھ کم درجہ کا نہیں ہے کیونکہ اس میں عیسائیت کی روح نے جان ڈال دی ہے ۔" بعینہ یہی کیفیت خود مسلمانوں کے درمیان بھی پیش آئی۔ انھوں نے جب دیکھا کہ سوشلزم عہد جدید کا مذہب بن چکا ہے اور زندگی کے مسائل پر " سائنٹفک انداز " میں سوچنے والے تمام لوگ اس کے حامی ہوتے جاتے ہیں تو ان کو اس احساس سے بہت شرمندگی لاحق ہوئی کہ ان کا محبوب اسلام ترقی کی دوڑ میں دنیا سے پیچھے رہ جائے ۔ وہ اسلام کے حق میں رجعت پسندی کو برداشت نہ کر سکے ؛ ان کو گوارا نہ ہوا کہ اسلام ایک ایسے ملکیتی نظام کی حمایت کرنے والا ہو جس کا تعلق تاریک دوزخ کے جاگیرداری سماج سے ہے۔ انھوں نے فوراً زمانہ کی آواز میں یہاں غالباً تاریخ قارئین کے اس بیان کی طرف اشارہ ہے جو ابتدائی عیسائی جماعت کی زندگی سے متعلق ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں حضرت مسیح کے " ابتدائی پیرو اور حواریین ایک دوسرے سے وابستہ ہو کر زندگی گزارتے تھے ان کی تمام اشیاء باہم مشترک ہوتی تھیں اور وہ اپنی کمائی کو آپس میں بانٹ لیا کرتے تھے یہ غالباً اسی قسم کی صورتِ حال تھی جیسی کہ اسلامی جامع میں ہجرت کے بعد مدینہ کی ابتدائی زندگی میں ملتی ہے۔ تاہم یہ طریقہ باعتبار ضرورت تھا نہ باعتبار معیار۔ یہ تفصیلات پروفیسر کارل ڈیل (Karl Dichl) کی کتاب سوشلزم کی بنیادی حقیقت اور اس کی اہم تہیں " سے لی گئی ہیں ، جو کہ اصل جرمن زبان سے براہ راست اردو میں ترجمہ کر کے ندوۃ المصنفین (دہلی) نے شائع کی ہے۔ حوالہ صفحہ ۸۸ - ۱۸۲

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page