Urdu book · سوشلزم اور اسلام

سوشلزم کا حل

Urdu book, p. 145

By Maulana Wahiduddin Khan

اپنی آواز ملا کر یہ اعلان کر دیا کہ ”اسلام انفرادی ملکیت کا سخت مخالف ہے،“ حضرت محمد سب سے بڑے سوشلسٹ تھے“، اور ”قرآن سراپا اشتراکی تعلیمات سے بھرا ہوا ہے“۔ زندگی کے معاشی مسائل کو حل کرنے کا یہ طریقہ صد فیصد غلط نہیں ہے۔ یقیناً بعض حالات ایسے ہوتے ہیں کہ حکومت کسی معاشی اسکیم کو اپنے انتظام میں شروع کرنے پر مجبور ہوتی ہے۔ ان معنوں میں سوشلزم قدیم ترین ریاستی نظاموں میں بھی موجود تھا۔ مگر جدید سوشلزم جس کو مارکس اور اس کے متبعین پیش کرتے ہیں وہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ مارکسی سوشلزم معاشیات کی تنظیم کے لئے اجتماعی ملکیت ہی کو اصل قرار دیتی ہے اور انفرادی ملکیتوں کو مجبوراً صرف وہاں تسلیم کرتی ہے جہاں اس کے سوا کوئی چارہ نہ ہو۔ جب کہ پرانے نظام میں اصلاً انفرادی ملکیت ہوتی تھی اور اجتماعی ملکیت کو کسی خاص ضرورت کے وقت جزئی طور پر اختیار کیا جاتا ہے۔ کسی نظام کو جب دوسرے کسی نظام کا مخالف قرار دیا جائے تو اس کے معنی یہ نہیں ہوتے کہ دونوں کے درمیان کوئی جزئی مشابہت بھی نہیں ہے۔ ایسی مشابہت تو انتہائی متضاد چیزوں میں بھی ثابت کی جاسکتی ہے۔ دو نظاموں کا مقابلہ ہمیشہ اس لحاظ سے کیا جاتا ہے کہ بنیادی طور پر دونوں کا رخ کیا ہے۔ اور زندگی کے بارہ میں اصلاً دونوں کیا نقطۂ نظر رکھتے ہیں۔ اس لحاظ سے جب ہم سوشلزم کے معاشی حل کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح اس کا فلسفہ اسلام کے برعکس ایک فلسفہ ہے ٹھیک اسی طرح اس فلسفہ کے بطن سے نکلا ہوا معاشی حل بھی اسلام کے تصور سے بالکل مختلف ہے۔ دونوں کو ایک جگہ جمع نہیں کیا جاسکتا۔ اسلام اپنے معاشی نظام میں اجتماعی ملکیت کا پیوند لگانے سے قطعی طور پر انکار کرتا ہے۔ آئندہ صفحات میں ہم ان اصولی اسباب کو بتائیں گے جن کی بنا پر اسلام کے اندر اشتراکیت کے حل کو اختیار نہیں کیا جا سکتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page