اجتماعی ملکیت کے غیر اسلامی ہونے کے اسباب
Urdu book, p. 146
By Maulana Wahiduddin Khan
اجتماعی ملکیت کے غیر اسلامی ہونے کے اسباب اجتماعی ملکیت کا نظریہ کیوں اسلام سے مطابقت نہیں رکھتا، اس کو اگلی سطروں میں نمبردار بیان کیا جاتا ہے۔ ۱۔ زندگی کے تمام معاملات میں اسلام کا اصول یہ ہے کہ وہ معاملہ کی فطری حالت کو اصلا بر قرار رکھ کر قوانین کے ذریعہ ان راستوں کو بند کر دیتا ہے جہاں سے خرابیاں ظہور کرتی ہیں۔ معیشت کی تنظیم کے لئے انفرادی ملکیت کا اصول ہی فطری اصول ہے، اس کے دو نہایت مضبوط قرینے ہیں۔ پہلا یہ کہ آدمی کے اندر فطری طور پر یہ خواہش موجود ہے کہ جو کچھ وہ حاصل کرے وہ اس کی ذاتی ملکیت ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آدمی جتنی دل چسپی کے ساتھ اپنے لئے کام کرتا ہے، دوسرے کے لئے نہیں کر سکتا۔ اس حقیقت کو عملی طور پر تمام کمیونسٹ ملکوں میں ہمیشہ سے تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔ اور اب تو نظری طور پر بھی کمیونسٹ حضرات اس کو تسلیم کرنے لگے ہیں۔ دوسری چیز یہ کہ تاریخ کے تمام معلوم زمانوں میں انفرادی ملکیت کا طریقہ رائج رہا ہے انسانی تاریخ پورے تسلسل کے ساتھ انفرادی ملکیت کے حق میں شہادت دیتی ہے نہ کہ نام نہاد اجتماعی ملکیت کے حق میں۔ تاریخ کے اسی خلا کو پر کرنے کے لئے سوشلزم کے علم برداروں نے ابتدائی انسانی سماج کے بارہ میں یہ مفروضہ قائم کیا ہے کہ وہ اشتراکی سماج تھا۔ یعنی اس میں تمام چیزیں، حتیٰ کہ عورت بھی، مشترک طور پر سب کے قبضہ میں ہوا کرتی تھی۔ مگر یہ محض ایک مفروضہ ہے جس کے لئے قیاس و گمان کے سوا کوئی قطعی دلیل نہیں دی جاسکتی۔ اسلام ملکیت کے اسی فطری طریقہ کو اصولاً تسلیم کرتا ہے۔ اور قوانین کے ذریعہ اس کا تحفظ کرتا ہے۔ آدمی جائز طور پر جو کچھ کماتا ہے اسلام کی نگاہ میں وہ اس کی ملک ہے اور اس کے مرنے کے بعد اس کے وارثوں کی ملک ہے۔ کسی فرد کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ دوسرے کا اثاثہ چھین لے اور نہ اسلامی ریاست کو یہ حق ہے کہ وہ کسی کی ملکیت کو بحق سرکار ضبط کرلے۔ وہ کسی کی ملکیت میں صرف اس وقت مداخلت کر سکتی ہے جب کہ متعلقہ شخص نے احکام الہی میں سے کسی حکم کی خلاف ورزی کر کے اسے حاصل کیا ہو یا وہ ان راہوں میں اس کو استعمال کرتا ہو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader