اجتماعی ملکیت کے غیر اسلامی ہونے کے اسباب
Urdu book, p. 147
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسری جگہ آپ نے فرد کے اوپر اسلامی ریاست کے اختیارات کو مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان فرمایا ہے: امرت ان اقاتل الناس حتی يشهدوا مجھے حکم دیا گیا ہے کہ جنگ کروں یہاں تک کہ لوگ شہادت ان لا الہ الا الله ويؤمنوا بما جئت به دیں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں اور جو کچھ میں لایا ہوں فاذا فعلوا ذلك عصموا منى دماءهم اس پر ایمان لائیں جب وہ ایسا کریں تو ان کی جان مال میری طرف واموالهم الا بحقها (مسلم) سے محفوظ ہوگا الآیہ کہ ان پر جان و مال کا کوئی حق وارد ہوتا ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ان ارشادات سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ کسی مسلم فرد یا مسلم ریاست کو جس طرح یہ حق نہیں ہے کہ وہ کسی کو قتل کر ڈالے اسی طرح اس کو یہ حق بھی نہیں ہے کہ کسی کا مال اس کی مرضی کے بغیر غصب کرلے، جس طرح آدمی کی جان محترم ہے ٹھیک اسی طرح اس کا مال بھی محترم ہے اور ان کے خلاف کوئی اقدام صرف اس وقت کیا جاسکتا ہے جب کہ ان متعین صورتوں میں سے کوئی صورت پیدا ہو جائے جو اللہ اور اس کے رسول نے بیان فرمادی ہیں اور جس کو اوپر کے ارشاد میں ”الابحقها“ کے ٹکڑے سے واضح کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کسی خود ساختہ نظریہ کی بنا پر انسان کی جان و مال میں تصرف نہیں کیا جا سکتا۔ جب تک یہ ثابت نہ کیا جائے کہ الابحقھا کے استثنائیں ”ذرائع پیدا وار کی اجتماعی تنظیم“ بھی شامل ہے اس وقت تک اسلام میں اس کی گنجائش ثابت نہیں ہوتی۔ ۲۔ سوشلزم کا بنیادی فلسفہ اسلام سے جس طرح فکر آتا ہے اسی طرح اس کے معاشی حل کے پیچھے جو منطق ہے اس کے لئے بھی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہو سکتی۔ انسانیت کے مسئل کو حل کرنے کا سوال اصلاً یہ سوال ہے کہ انسان کو کس طرح بدلا جائے۔ انسان کے اندر تبدیلی کا احساس پیدا کئے بغیر حالات کو بدلنا ممکن نہیں ہے۔ اگر انسان نہ بدلیں تو رشوت بند کرنے کا قانون بھی بگڑے ہوئے افسروں اور اہل کاروں کے ہاتھ میں پڑ کر مزید رشوتیں وصول کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے اور بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں کے لئے خرچ کی ہوئی رقمیں چند ٹھیکہ داروں اور اعلیٰ عہدیداروں کے گھر پہنچ جاتی ہیں۔ اسی لئے انسانی مسائل کی اصلاح کے لئے جو تحریکیں اٹھتی ہیں وہ ہمیشہ اس سوال کو بنیادی اہمیت دیتی رہی ہیں کہ انسان کی اصلاح کس طرح ہوسکتی ہے۔ سوشلٹ حل دراصل اسی سوال کا ایک جواب ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ مادی تبدیلی کا جو قانون ہے وہی انسان کی تبدیلی کا بھی قانون ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ سوشلزم ”اصلاح بذریعہ جبر“ کا طریقہ ہے اور اسلام ”اصلاح بذریعہ تربیت“ کا۔ مگر یہ صحیح نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں ہی تربیت کے ذریعہ اصلاح تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ اسلام شعوری تبدیلی کے ذریعہ اصلاح کرنا چاہتا ہے اور مارکسیزم کا دعویٰ یہ ہے کہ مادی تبدیلی کے ذریعہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader