اجتماعی ملکیت کے غیر اسلامی ہونے کے اسباب
Urdu book, p. 148
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان کی اصلاح ہوتی ہے۔ گویا اسلام اور مارکسزم میں فرق طریق کار کا نہیں ہے بلکہ اصول اور بنیاد کا ہے۔ اس فرق کو دوسرے لفظوں میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ اسلام کا کہنا ہے کہ "انسان کو بدلنا چاہتے ہو تو اس کے ذہن کو بدل دو" اس کے برعکس مارکس کا کہنا ہے کہ "انسان کو بدلنا چاہتے ہو تو اس کے مادی حالات کو بدل دو۔ وہ بنیادی فلسفہ جس کو مارکس نے اس سلسلہ میں مرتب کیا تھا اس کو اپنی اصل شکل میں دنیا نے بہت کم قبول کیا۔ مگر مخصوص حالات کی بنا پر اس کے اس تجویز کئے ہوئے یا زیادہ صحیح لفظوں میں دریافت کئے ہوئے حل نے بڑی کثرت سے لوگوں کو متاثر کیا ہے۔ اس وقت سماج جن دشواریوں میں مبتلا ہے اس کے علاج کے لئے تحدیدِ ملکیت، مشترکہ کھیتی، اقتصادی منصوبہ بندی اور نیشنلائزیشن کی تدبیریں اسی طرزِ فکر کا نتیجہ ہیں۔ انسان اب عام طور پر یہ سوچنے لگے ہیں کہ ملکیتی نظام میں تبدیلی اور کچھ معاشی کارروائیوں کے ذریعہ انسانیت کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ اسی سے معاشی نا ہمواری ختم ہوگی، اسی سے سماجی اونچ نیچ کا علاج ہو گا‘ اسی سے بگڑے ہوئے اخلاق درست ہوں گے‘ اسی سے سیاسی استبداد کا خاتمہ ہوگا‘ اسی سے بین اقوامی امن قائم ہوگا۔ غرض انسانیت کے سارے دکھوں کا علاج اور اس کی کامیابی کی راہ صرف یہ ہے کہ مادی زندگی یا دوسرے لفظوں میں اس کے معاشی شعبے میں کچھ تبدیلیاں کردی جائیں۔ یہی وہ فلسفہ ہے جس سے متاثر ہو کر اسلام میں اجتماعی ملکیت کی گنجائش ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مگر یہ طرزِ فکر بنیادی طور پر اسلام سے ٹکرا تا ہے۔ اسلام نہ تو اس فلسفہ کو تسلیم کرتا اور نہ اس کی تعلیمات میں اس کی کوئی گنجائش ہے کہ انفرادی ملکیت کے فطری نظام کو الٹ کر نام نہاد سماجی ملکیت کا نظام انسانیت کے اوپر لادنے کی کوشش کی جائے۔ اسلام کے نزدیک انسان کے بننے یا بگڑنے کی بنیاد یہ ہے کہ وہ خدا سے ڈرتا ہے یا خدا سے نہیں ڈرتا۔ جب کہ سوشلزم کے نزدیک انسان کا بننا یا بگڑنا اس بات سے تعلق رکھتا ہے کہ وہ کس قسم کے معاشی قوانین کے اندر زندگی گزار رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ معاشیات کی تنظیم کے بارہ میں اسلام کا نقطہ نظر سوشلزم کے نقطہ نظر سے اسی طرح ٹکرا تا ہے جس طرح خدا پرستی اور مادہ پرستی ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ جس طرح "جدلی مادیّت" زندگی کی صحیح تشریح نہیں ہے اسی طرح اجتماعی ملکیت کا نظریہ بھی اسلام سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ ۳۔ ہم جس دنیا میں رہ رہے ہیں وہ کوئی ایسی دنیا نہیں ہے جہاں ابھی ملکیتیں قائم نہیں ہوئی ہیں اور ہمیں اس کام کی ابتدا کرنے کے لئے کوئی نقشہ بنانا ہے۔ بلکہ صورتِ حال یہ ہے کہ دنیا کا نظام صدیوں سے انفرادی ملکیت پر مبنی چلا آ رہا ہے۔ ہم کوئی نئی دنیا نہیں بنانی ہے بلکہ بنی ہوئی دنیا میں تبدیلی کرنی ہے۔ ایسی حالت میں اجتماعی ملکیت قائم کرنے کا سوال سب سے پہلے یہ سوال سامنے لاتا ہے کہ اس طرح کی کسی اسکیم کے لئے لوگوں کی قائم شدہ ملکیتوں کو ان کی مرضی کے خلاف حاصل کیا جا سکتا ہے یا نہیں حقیقت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader