اجتماعی ملکیت کے غیر اسلامی ہونے کے اسباب
Urdu book, p. 149
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ ہے کہ اجتماعی ملکیت کے اسلامی یا غیر اسلامی ہونے کا سوال مثبت سے زیادہ منفی نوعیت رکھتا ہے۔ ہم کو صرف یہ نہیں دیکھنا ہے کہ اسلامی شریعت میں اس کے موافق کوئی دفعہ پائی جاتی ہے یا نہیں بلکہ اس سے زیادہ ضروری یہ دیکھنا ہے کہ اس اسکیم کو اگر کسی آبادی میں نافذ کیا جائے تو شریعت کے قائم کئے ہوئے حدود کے اندر رہ کر اسے نافذ کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ اس حیثیت سے جب ہم اسلام کے قانون ملکیت کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے شخصی جائیداد کے لئے جو تحفظات تسلیم کئے ہیں ان کو ساقط کئے بغیر کسی آبادی میں اجتماعی ملکیت کی اسکیم کو جاری نہیں کیا جا سکتا۔ اسلام نے کسب معاش کے لئے کچھ حدود و شرائط مقرر کی ہیں۔ جو شخص ان حدود و شرائط کا پابند رہتے ہوئے دولت اور جائیداد حاصل کرتا ہے وہ گویا اسلامی قانون کی رو سے ایک جائز ملکیت کا مالک بنتا ہے۔ پھر آپ کس بنا پر اس سے ملکیت کا حق ساقط کریں گے۔ اس عمل کے لئے قانونی بنیاد کیا ہے۔ وہ کون سی منطق ہے جس کے ذریعہ آپ کا فعل حق بجانب قرار دیا جا سکتا ہے۔ چونکہ دنیا میں اب تک کا سارا کاروبار انفرادی ملکیت کے اصول پر چل رہا ہے، اس لئے اجتماعی ملکیت کا نظام لانے کے لئے سابقہ انفرادی ملکیتوں کو سلب کرنا پڑے گا۔ اس عمل کے بغیر اجتماعی ملکیت کا نظام قائم نہیں کیا جا سکتا۔ یہ نظام کلاً یا جزئاً کس درجہ میں بھی اختیار کیا جائے اسی کے بقدر افراد کی ملکیتوں کو غصب کرنا ضروری ہوگا۔ پھر کیا اسلام کے قانون میں ایسی کسی دفعہ کی نشان دہی کی جا سکتی ہے جو محض اجتماعی تنظیم کے لئے افراد کی ملکیتوں کو سلب کرنا جائز قرار دیتی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ دولت حاصل کرنے کے طریقے کیا ہوں اور حاصل شدہ دولت کو کن راہوں میں صرف کیا جائے، اس سلسلہ میں نہایت تفصیلی ہدایات دے کر شریعت ایک طرف جائز طور پر حاصل کی ہوئی انفرادی ملکیتوں کی تصدیق کرتی ہے اور دوسری طرف یہ بھی متعین کر دیتی ہے کہ افراد کی ملکیتوں میں حکومت کس حد تک اور کن پہلوؤں سے دخل دینے کی مجاز ہے۔ اسلام کی تعلیمات میں سے کوئی تعلیم اور صدر اوّل کے نظائر میں سے کوئی نظیر اس امر کی تائید میں پیش نہیں کی جا سکتی کہ افراد کو ملکیت بنانے کی ممانعت ہو یا اس پر حد بندی قائم کی گئی ہو، اور نہ اس کا کوئی ثبوت دیا جا سکتا ہے کہ لوگوں کی ملکیتیں محض اس لئے چھینی جا سکتی ہیں کہ ریاست کی طرف سے ان کا یکجائی انتظام کرنا ہے۔ اس سلسلہ میں جتنی دلیلیں دی گئی ہیں وہ سب نہایت کمزور ہیں اور ان سے شریعت کے اصل منشار کے بجائے زبردستی اپنا منشا برآمد کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ۴۔ اسلام کے معاشی نظام کا پورا ڈھانچہ انفرادی ملکیت کے اصول پر قائم ہے۔ یہ واقعہ ہے کہ اسلام کا معاشی نظام اپنی مخصوص نوعیت کے ساتھ انفرادی ملکیت کا نظام ہے۔ اس مجموعہ میں اجتماعی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader